انتخاب کے وقت اروند کیجریوال کو مسلمان یاد آ رہے ہیں، عمران مسعود
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بی جے پی کی حکومت جہاں ہوتی ہے، جرائم پیشوں کو اسکی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے مشہور و معروف اداکار سیف علی خان پر ممبئی واقع ان کی رہائش میں ہی حملہ کئے جانے کے بعد فلمی ہستیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی ہستیوں کا بھی ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی سیف علی خان پر ہوئے حملہ کے بعد بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ اس حملہ کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، ساتھ ہی مودی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ گندی سیاست کرنا بند کر اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے۔ عام آدمی پارٹی کے ترجمان پرینکا ککر نے اس معاملے میں پریس کانفرنس کر بی جے پی حکومت پر حملہ کیا۔ انہوں نے بابا صدیقی کے قتل، سیف علی خان پر حملہ اور سلمان خان کو ملنے والی دھمکیوں کا تذکرہ بھی کیا۔ اب اس معاملے پر کانگریس نے کیجریوال اور عام آدمی پارٹ کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ آج انتخاب کے وقت کیجریوال جی کو مسلم بھائی یاد آ رہے ہیں۔
عمران مسعود نے یہ تبصرہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 سالوں میں اروند کیجریوال نے کبھی دہلی کے مسلمانوں پر فکر ظاہر نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بی جے پی کی حکومت جہاں ہوتی ہے، اس کی سرپرستی جرائم پیشوں کو حاصل ہوتی ہے۔ اس درمیان عمران مسعود نے اروند کیجریوال کو مسلم مخالف قرار دیتے ہوئے انہیں کچھ پرانی باتیں یاد دلائیں۔ انہوں نے کیجریوال کے سامنے مسلمانوں سے متعلق 5 تلخ سوالات پیش کئے اور کہا کہ جب انہیں بولنا چاہیئے تھا تو وہ خاموش کیوں تھے۔ عمران مسعود نے اروند کیجریوال کا نام لیتے ہوئے کہا کہ دہلی کے جہانگیر پوری اور مشرقی دہلی کے علاقوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد نہ تو آپ نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور نہ ہی متاثرین و غیر محفوظ طبقات کے حق میں عوامی طور پر کوئی بیان دیا۔
انہوں نے کہا کہ دہلی کے اُس وقت کے وزیراعلیٰ کی شکل میں آپ نے خاموشی کیوں اختیار کی، تب سے لے کر اب تک آپ نے متاثرہ طبقہ کے مسائل کا حل کرنے اور ان کا بھروسہ بحال کرنے کے لئے کیا قدم اٹھائے ہیں، خاص طور سے جہانگیر پوری اور مشرقی دہلی جیسے علاقوں میں۔ عمران مسعود نے بلقیس بانو معاملہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بلقیس بانو معاملے نے ذات و مذہب سے بالاتر ہو کر ملک کے احساسات کو جھنجھوڑ دیا تھا۔ تب عام آدمی پارٹی کے لیڈر منیش سسودیا نے اس شرمناک واقعہ کی مذمت کرنے یا اس پر کسی طرح کا تبصرہ کرنے سے واضح لفظوں میں انکار کر دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے بی جے پی
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔