سجاول،سندھ میمن اتحاد کے رہنما پر مقدمہ درج کرنے کیخلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2025 GMT
سجاول (نمائندہ جسارت)سندھ میمن اتحاد کی اپیل پر سندھ میمن اتحاد کے رہنما ارباب محمد دین میمن کے خلاف درج جھوٹے مقدمات کے خلاف سجاول میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں سیاسی و سماجی رہنماؤں سمیت سیکڑوں شہریوں نے شرکت کی اور ارباب محمد دین میمن سے اظہار یکجہتی کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سندھ میمن اتحاد کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری حافظ سعد اللہ میمن نے کہا کہ ارباب محمد دین میمن ایک شریف معزز شہری اور کاروباری آدمی ہیں جنہیں ایک نام نہاد سیاسی رہنما ایشور لال نے بلیک میل کیا اور ارباب محمد دین میمن کے سابقہ بیوی دعا تھیبو سے مل کر اسے بلیک میل کرکے اس کی ملکیت اور پروجیکٹس پر قبضہ کیا اور ضبط کر لی ہیں اور پھر اسے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر گرفتار کروایا اب اسے جیل میں قتل کرنے سازش بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارباب محمد دین کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور مظالم ناقابل برداشت ہیں اگر ان کے ساتھ یہ ظلم و زیادتی کا سلسلہ ختم نہ ہوا تو سندھ میمن اتحاد کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کرکے وزیر اعلیٰ ہائوس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی(ش ب) حیدرآباد کے ریجنل آرگنائزر نثار احمد میمن نے کہا کہ ارباب محمد دین کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور ظلم کے خلاف سندھ کے ہر فرد کو احتجاج کرنا چاہیے کیونکہ آج اس پر ظلم ہوا ہے اور کل ہم بھی ظالم کے رحم و کرم پر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ارباب محمد دین کے خلاف جھوٹے مقدمات کی تفتیش ایماندار پولیس افسران سے کرائی جائے تاکہ انہیں انصاف مل سکے۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے امیر البحر سجاول کے رہنما احمد ملاح نے کہا کہ ارباب محمد دین میمن کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر سندھ میں بسنے والے تمام لوگ دکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امیر البحر کی جانب سے م سندھ میمن اتحاد کے ہر احتجاج میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ تحریک لبیک پاکستان کے حافظ غلام مرتضیٰ بارن نے اپنے خطاب میں کہا کہ ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھانا ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے لہٰذا تحریک لبیک پاکستان مظلوم ارباب محمد دین میمن اور ہر مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سندھ میمن اتحاد کی ہر اپیل پر لبیک کہیں گے۔ پیپلز پارٹی(ش ب ) کے ایڈووکیٹ لالہ یاسر بھان نے کہا کہ ارباب محمد دین میمن کے معاملے میں پولیس انکوائری کرنے کے بجائے رکوری کا سوچ رہی ہے کہ اس سے کیسے فائدہ اٹھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ارباب محمد دین میمن کے خلاف جھوٹے مقدمات ختم کرکے انہیں فوری رہا کیا جائے۔ احتجاجی مظاہرے سے حسین آزاد، شہری اتحاد سجاول کے صدر ایاز میمن، انسانی حقوق کے رہنما غلام حسین میربحر، جسقم رہنما محمد خان پٹھان، ڈاکٹر الہڈنو راہموں، عبدالرزاق کہرائی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ مظاہرے میں آل پاکستان سومرا ایسوسی ایشن کے رہنما عرفان قاسم سومرو، ایم کیو ایم کے رہنما غلام حسین میمن، غلام نبی چانڈیو، حسن زنگیجو، حزب اللہ میمن نے شرکت کی اور ارباب محمد دین میمن سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ ارباب محمد دین میمن ارباب محمد دین میمن کے سندھ میمن اتحاد کے انہوں نے کہا کہ کے رہنما کے ساتھ کے خلاف
پڑھیں:
ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
بھارت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے ہیں۔ کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر، اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا، یوراج سنگھ، شیکھر دھون، محمد کیف، میرابائی چانو، ونیش پھوگاٹ اور منو بھاکر نے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر اصلاحات کی اپیل کی ہے۔
سچن ٹنڈولکر نے اپنے مرحوم والد جو پیشے کے اعتبار سے پروفیسر تھے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ناکامی قابلِ قبول ہے لیکن دھوکہ دہی نہیں۔ کبھی بھی شارٹ کٹ اختیار نہ کریں‘۔
یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
انہوں نے مزید کہا کہ بطور معاشرہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیں جہاں محنت کو نتائج پر ترجیح دی جائے۔ انہوں نے لکھا اگر معاشرہ محنت کے بجائے صرف نتائج کو اہمیت دے گا تو لوگ میرٹ کے بجائے شارٹ کٹس تلاش کریں گے۔ آج اگر طلبہ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو یہ قابلِ فہم ہے۔ ہمیں مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں انہیں دوبارہ ایسا محسوس نہ ہو۔
سچن نے کہا کہ بھارت کے نوجوان خوابوں اور توانائی سے بھرپور ہیں اور والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، منتظمین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں محنت کا صلہ ملے، دیانت داری کی حوصلہ افزائی ہو اور میرٹ کامیاب ہو۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مودی حکومت کے خلاف بڑھتا احتجاج، سلمان خان بھی شامل ہوگئے
اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔
انہوں نے لکھا کہ ’میں نے خود کو کبھی سیاسی شخصیت نہیں سمجھا لیکن میرا یقین ہے کہ کچھ معاملات ہم سب کے ہیں، چاہے ہمارے نظریات کچھ بھی ہوں۔ تعلیم انہی میں سے ایک ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی معیشت یا کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو کتنے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش
ان کے مطابق ایسا نظامِ تعلیم جو اعتماد پیدا کرے، میرٹ کو فروغ دے اور تجسس کی حوصلہ افزائی کرے کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ ہمیں مل کر اپنے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے امید، مواقع اور جدت کا ذریعہ بن سکے۔
اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سی اچھی چیزیں بھی ہو رہی ہیں لیکن کچھ افسوسناک واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جب ہم ایسے واقعات دیکھتے یا سنتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ میں نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں سنا ہے میرا خیال ہے کہ وہ درست کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج میں تقسیم، اہلکار مودی حکومت کے خلاف احتجاج کا حصہ بن گئے
سابق بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ نے اپنے پیغام میں کہا ہر بچے، ہر طالب علم، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پُرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرے، محفوظ رہے اور اپنے خواب پورے کرے۔ آپ کی فلاح و بہبود ہی روشن بھارت کی بنیاد ہے۔ بات چیت کے ذریعے ہم بھارت کے مستقبل کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کر سکتے ہیں۔
سابق اوپنر شکھر دھون نے بھی طلبہ کے جذبات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خوابوں کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن مشکل وقت میں صبر اور ملک کے اداروں اور حکومت پر اعتماد برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر مسئلے کا حل صبر سے نکلتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید
سابق کرکٹر محمد کیف نے کہا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ تعلیم کے نظام میں خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس طاقت استعمال کر رہی ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر طلبہ پر لاٹھیاں برسنا بند ہونا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اس مسئلے کا جلد حل نکلے گا۔
ریسلر ونیش پھوگاٹ نے احتجاجی مقام پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کی تصاویر نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا جب ملک کے طلبہ اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے خوابوں کے لیے سڑکوں پر نکلے تو انہیں عزت کے بجائے خوف اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار ’ستلج ‘ کے بعد’دی انڈیا اسٹوری‘ سے بھی ڈرنے لگی، سبب کیا نکلا؟
انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ ہر حال میں پرامن رہیں اور کہا آپ کی سب سے بڑی طاقت آپ کا صبر، نظم و ضبط اور پُرامن جدوجہد ہے۔ پیچھے مت ہٹیں، تاریخ ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔
سب سے پہلے آواز بلند کرنے والے کھلاڑیوں میں اولمپک شوٹر منو بھاکر بھی شامل تھیں جنہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ میں خود ایک طالبہ رہی ہوں اور ہم سب کبھی نہ کبھی طالب علم رہے ہیں۔ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور زندگی میں مساوی مواقع ملنے چاہییں۔ یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیادی حقوق ہیں۔ جن طلبہ اور بچوں نے اپنی جانیں گنوائیں، وہی اس ملک کا مستقبل تھے۔ ان کے خواب، ان کی صلاحیتیں اور ان کا مستقبل محفوظ ہونا چاہیے تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا انڈیا احتجاج بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر کاکروچ جنتا پارٹی مودی