دہشتگردوں کی مالی معاونت کےلئے پختونخوا سے بھاری مقدار میں سونے کی افغانستان اسمگلنگ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
دہشتگردوں کی مالی معاونت کےلئے پختونخوا سے بھاری مقدار میں سونے کی افغانستان اسمگلنگ WhatsAppFacebookTwitter 0 2 September, 2025 سب نیوز
پشاور:دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے خیبر پختونخوا سے بھاری مقدار میں سونے کی افغانستان میں اسمگلنگ کی جاتی رہی ہے۔
انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت پشاور میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال ہونے والے سونے کی اسمگلنگ کیس کی سماعت اے ٹی سی جج محمد اقبال خان نے کی۔
دورانِ سماعت 3 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ بعد ازاں عدالت نے مزید گواہان کو اگلی سماعت کے لیے طلب کر لیا۔
پراسیکیوشن کے مطابق پشاور اور گردونواح سے بھاری مقدار میں سونا افغانستان اسمگل کیا جا رہا تھا۔ طورخم بارڈر پر کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں سونا برآمد کیا گیا اور ایک ملزم کو حراست میں لیا گیا، جس کی نشاندہی پر مزید 19 ملزمان کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا۔
پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے تقریباً 6 کلو سونا برآمد ہوا جو افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ملزمان کے خلاف باقاعدہ ٹرائل شروع کیا گیا ہے۔
ٹرائل کے دوران 3 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جب کہ عدالت نے مزید گواہان کو 4 ستمبر کی سماعت کے لیے طلب کر لیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراگر خاتون کو جنات نے غائب کیا ہے تو انہیں بھی فریق بنانا چاہیے تھا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اگر خاتون کو جنات نے غائب کیا ہے تو انہیں بھی فریق بنانا چاہیے تھا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سرکاری ملازم پر تشدد کا مقدمہ: فرحان غنی کو بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی اسلام آباد: سفاک بیوی نے آشنا کے ساتھ ملکر شوہر کو قتل کردیا، ملزمہ ساتھی سمیت گرفتار گندم کی 30 ہزار بوریاں چوری ہونے کے اسکینڈل میں اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر کی ضمانت مسترد جنگ ستمبر کا دوسرا روز: بھارتی وزیراعظم کی پاکستان کو جنگ کی دھمکی سی پیک فیز ٹو سے پاکستان اور چین کا تعاون نئی بلندیوں کو چھوئے گا: احسن اقبالCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سے بھاری مقدار میں کی مالی معاونت سونے کی
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز