لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر میں بے ضابطگیاں، وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر میں بے ضابطگیاں، وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی WhatsAppFacebookTwitter 0 10 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس ) لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کے دوران بے ضابطگیاں، وزیراعظم شہباز شریف نے اعلی سطح انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔تحقیقاتی کمیٹی میں سیکرٹری کابینہ کامران علی افضل، سیکرٹری تجارت جواد پال شامل ہیں،سابق وفاقی سیکرٹری میاں مشتاق احمد تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی کریں گے جب کہ چیئرمین پی ایم آئی سی بریگیڈیئر ( ر) مظفر علی رانجھا، انٹیلی جینس بیورو کا نمائندہ بھی شامل ہیں۔
کمیٹی لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر نو کے منصوبے کا ٹھیکہ غیر شفاف طریقے سے دینے کی تحقیقات کرے گی،ایکسپریس وے تعمیر نو منصوبے کے دوران الیکٹریکل ورکس کے لئے سامان کی غیر قانونی خرید کے معاملے کی تحقیقات بھی کرے گی۔
کمیٹی اوپن آکشن کے بغیر ٹھیکہ دیے جانے میں ملوث افسران کی نشاندہی کرے گی،کمیٹی مختلف ٹال پلازوں کو غیر قانونی طور پر ٹھیکے پر دیے جانے کے حوالے سے تحقیقات کرے گی۔خیال رہے کہ کمیٹی تین ہفتوں میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجے یو آئی نے27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر سینیٹر احمد خان کو پارٹی سے نکال دیا جے یو آئی نے27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر سینیٹر احمد خان کو پارٹی سے نکال دیا تھائی لینڈ نے ٹرمپ کی ثالثی میں کمبوڈیا کے ساتھ طے پانے والا امن معاہدہ معطل کردیا طالبان سے دوبارہ بات ہوسکتی ہے کیونکہ ہم اپنے دوستوں کوانکار نہیں کرسکتے: وزیر دفاع آرٹیکل 243 کی 2 شقوں میں ترمیم منظور، فیلڈ مارشل کو قانونی استثنی حاصل، وردی اور مراعات تاحیات ہوں گی بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں میٹرو سٹیشن کے قریب دھماکا، 9 افراد ہلاک تاحیات کسی کو عدالتی کارروائی سے تحفظ دینا شریعت اور آئین کی روح کیخلاف ہے: مفتی تقی عثمانیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔