بی جے پی کامقبوضہ کشمیر کی یونیورسٹی میں مسلم طلبہ کے داخلے پر پابندی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251129-08-3
سری نگر( مانیٹرنگ ڈیسک )بی جے پی کے مطالبے پر مقبوضہ کشمیر کی ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں مسلمان طلبا کے داخلے پر پابندی عاید کرنے کا پر غور کیا جا رہا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی بی جے پی کی قیادت نے ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں مسلمان طلبا کے داخلے پر پابندی کا مطالبہ کردیا۔بی جے پی کے رہنماؤں نے یہ متنازع اور غیر آئینی مطالبہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو پیش کردہ ایک یادداشت میں کیا ہے۔خیال رہے کہ بی جے پی کا یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب یونیورسٹی کی 50 نشستوں میں سے 42 پر مسلمان امیدوار طلبا کامیاب ہوگئے ہیں۔بی جے پی رہنما سنیل شرما نے الزام لگایا کہ یونیورسٹی ہندو عقیدت مندوں کے چندے سے چلتی ہے اور داخلہ صرف انہی طلبا کو ملنا چاہیے جو ماتا سے عقیدت رکھتے ہوں۔دوسری جانب نیشنل کانفرنس نے کہا کہ ملک بھر میں مذہبی ادارے تعلیمی مراکز چلاتے ہیں جہاں ہر مذہب کے طلبا پڑھتے ہیں، لہٰذا اس طرح کی پابندیاں ملک کو تقسیم کر دیں گی۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بی جے پی
پڑھیں:
زرعی یونیورسٹی میں پروفیسر کے طالبہ کو نازیبا اشارے کرنے کی ویڈیو وائرل
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے بورے والا کیمپس میں پروفیسر کی جانب سے طالبہ کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کا واقعہ سامنے آگیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی سطح پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔
وائرل ہونے والی ویڈیو میں پروفیسر یحییٰ خان کو طالبہ سے نازیبا گفتگو اور غیر اخلاقی مطالبہ کرتے سنا جا سکتا ہے، جہاں انہوں نے مبینہ طور پر امتحانی پرچے میں اضافی نمبر دینے کے بدلے طلبہ سے نامناسب مطالبہ کیا۔
زرعی یونیورسٹی بورے والا کیمپس میں طالبہ سے جنسی ہراسگی کا واقعہ، پروفسیر یحیی طالبہ کو گندے اشارے کرتا رہا، ویڈیو سامنے انے پر پروفیسر معطل، یونیورسٹی میں داخلہ بند pic.twitter.com/fOdRkeHqvC
— Muhammad Umair (@MohUmair87) November 28, 2025
واقعہ کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور پروفیسر کے خلاف فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ متعدد صارفین نے اسے تعلیم جیسے مقدس پیشے کی توہین قرار دیا۔
متاثرہ طالبہ نے 31 اکتوبر کو واقعے کی تحریری شکایت یونیورسٹی انتظامیہ کو جمع کرائی، جس کے بعد انتظامیہ نے ابتدائی طور پر پروفیسر یحییٰ خان کو معطل کرتے ہوئے یونیورسٹی میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔ پرنسپل کے مطابق معاملہ یونیورسٹی کی حراسانی روک تھام کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے، تاہم تاحال کمیٹی کی حتمی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں طالبات سڑکوں پر نکل آئیں، ویمن یونیورسٹی میں پیش آئے واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ
ذرائع کے مطابق پولیس نے پروفیسر ڈاکٹر یحییٰ خان کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتاری پر ردِعمل دیتے ہوئے پرنسپل ڈاکٹر ساجد نے کہا کہ پولیس نے انکوائری جاری ہونے کے باوجود چھاپہ مار کر پروفیسر کو گرفتار کیا، جس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔
پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے انکوائری میں تاخیری حربے استعمال کیے جارہے تھے، جبکہ متاثرہ طالبہ گزشتہ چھ ماہ سے انصاف کی منتظر تھی۔ پولیس کے مطابق خواتین کو ہراساں کرنے کے معاملات میں زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پروفیسر کے نازیبا اشارے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد طالبہ کے ساتھ ہراسانی ہراسانی وائرل ویڈیو