Jasarat News:
2025-11-29@01:38:38 GMT

سب کچھ یہی بدلیں گے

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اقبال، اور مودودیؒ کے شہر لاہور میں 21 تا 23 نومبر تین دن کے لیے ایک بستی بسائی گئی اور اس بستی میں پاکستان بھر، اور دنیا کے کونے کونے سے لوگوں کی بھاری تعداد شریک ہوئی، ایک اندازے کے مطابق یہ ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ لوگ تھے، کسی سے موازنہ مقصود نہیں لیکن یہ سارے لوگ مختلف علاقوں رنگوں، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق کے باوجود صرف ایک رشتے ’’لا الہ الا اللہ‘‘ سے جڑے ہوئے تھے۔ یہ بستی جماعت اسلامی پاکستان کے گیارہ برس بعد ہونے والے اجتماع کے لیے بسائی گئی تھی۔ اجتماع کا عزم تھا ’’بدل دو نظام‘‘ اسے لوگ، نعرہ یا سلوگن کہتے ہیں لیکن جو لوگ آئے تھے وہ بامقصد سوچ والے لوگ ہیں وہ نعرے نہیں دیتے عزم کرتے ہیں، اور ان کا عزم صرف دنیا کے لیے نہیں ہوتا، وہ ملک میں نظام بدلنا چاہتے ہیں تو اللہ کی رضا کے لیے، تین روز تک یہ بستی اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں سے، بھری رہی، زندگی سے بھرپور عزم جوان کردینے والی تقریریں، اور اس کارواں کے امیر حافظ نعیم کی جانب سے دیا جانے والا پرزور پیغام ہی نظام بدلنے کا نقطہ آغاز تھا۔ بدل دو نظام اجتماع عام میں امیر جماعت اسلامی پاکستان نے تین اہداف مقرر کیے:

پہلا ہدف:- پچاس لاکھ ممبر بنائیں۔ پچاس ہزار عوامی کمیٹیاں۔

دوسرا عزم:- آئین کے تحفظ اور آئین کی بالادستی کے لیے تحریک منظم کی جائے گی۔ متناسب نمائندگی پر انتخاب کامطالبہ منوایا جائے گا۔

تیسرا عزم:- بیوروکریسی سے اختیارات لے کر مقامی و بلدیاتی عوامی نمائندوں کے سپرد کیے جائیں۔

اس اجتماع سے متعلق اس کے دوران بھی لکھا گیا اور اختتام کے بعد بھی لکھا جارہا ہے، بہت سے نظریاتی مخالف بھی مان گئے اور ان کا تاثر تھا کہ اگرچہ اس ملک کا نظام بدلنا بہت مشکل ہے لیکن اگر کوئی اس نظام کو بدل سکتا ہے تو یہی لوگ ہیں جو اس سے ٹکرا بھی سکتے ہیں اور اس کا متبادل نظام نافذ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، ایک دانشور نے شاید سب سے پہلے کالم لکھ دیا اور ایک گول مول تحریر کے ذریعہ کچھ تعریفوں کے ساتھ یہ سوال اٹھایا کہ ’’کیا جماعت اسلامی نظام بدل سکے گی‘‘ اس تحریر اور سرخی سے عام آدمی یہی تاثر لے گا کہ نظام بدلنے کا کام ناممکن ہے۔ لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ ان صاحب اور بہت سوں کی خواہش یہی ہوگی کہ یہ نظام نہ بدلے، کیونکہ اس نظام میں بہت سوں کے فائدے ہیں، شاید ان کا بھی! لیکن جماعت اسلامی اگر تبدیلی کا عزم لے کر اٹھی ہے تو وہ اس معاملے میں یقینی طور پر سنجیدہ ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ جماعت کے اجتماع کے خلاف بہت کچھ کہا جائے، لیکن اگر کوئی سنجیدہ تجزیہ کرے تو اس کے سامنے حقیقت آجائے گی۔ اس ملک میں سب سے زیادہ حکومت کرنے والی جماعتوں میں پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی ہیں ان کے علاوہ پی ٹی آئی بھی حکمرانی کرنے والی قابل ذکر بڑی پارٹی ہے، اور مختلف ادوار میں مارشل لا، ق لیگ، اور چھوٹے چھوٹے شامل باجے ایم کیو ایم، اے این پی، جے یو آئی، جے یو پی وغیرہ ہیں یہ سب الٹ پھیر کر ایک سے دوسری پارٹی اور تیسری چوتھی پانچویں میں بھی چلے جاتے ہیں، اور کسی کو کوئی شرمندگی نہیں ہوتی۔ ان سب کے اقتدار کے ادوار میں پاکستانی عوام کو قرضوں، بیروزگاری، بدعنوانی، مہنگائی، دھوکے اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ملا، بار بار اقتدار کے بعد انہیں ایک اور بار اقتدار دینے کا مطلب مزید تباہی ہوگا۔ ایسے میں جماعت اسلامی نے نظام بدلنے کا عزم ظاہر کیا ہے تو ملک کے حالات کے تناظر میں کسی قسم کی خیر اور بھلائی کی توقع جماعت اسلامی کے سوا کسی سے نہیں کی جاسکتی۔ جماعت اسلامی حکومت میں نہیں لیکن اس کے بغیر وہ تعلیم، صحت، تربیت، کمپیوٹر کی تعلیم، تجارت و معیشت ہر شعبے میں بہترین خدمات انجام دے رہی ہے، تو اگر اس ملک میں کوئی نظام بدل سکتا ہے تو یہی لوگ ہیں جو تین روز لاہور میں پرعزم قیام کرکے گئے ہیں، اجتماع گاہ اور بادشاہی مسجد کو جماعت کے کارکنوں نے دوبارہ پچھلی حالت میں لاکر صاف ستھرا کرکے انتظامیہ کے حوالے کیا ہے، وہ ملک کو بھی اسی طرح صاف ستھرا ترقی کرتا ہوا بنادیں گے، بس اب قوم بھی ان کا ساتھ دے تو یہی لوگ نظام بدلیں گے۔

مظفر اعجاز سیف اللہ.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کا عزم کے لیے

پڑھیں:

دشمن کی نہ جنگ نہ امن کی خطرناک سازش

اسلام ٹائمز: شریعتمداری نے اپنے تجزیہ میں کہا ہے کہ ہمیں ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیئے۔ امریکہ اور صیہونی حکومت ایران کو "نہ جنگ اور نہ امن" کی حالت میں رکھنے کیلئے ایک چال چل رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: مثال کے طور پر وہ تل ابیب کے ہوائی اڈے پر امریکی اور یورپی ہتھیاروں کی آمد کو مسلسل دکھاتے ہیں۔ یہ ہتھیار پہلے بھی آتے تھے، لیکن انکی نمائش نہیں کی جاتی تھی۔ اب وہ ایسا دکھاوا کرتے ہیں، جیسے وہ تیاری کر رہے ہوں۔ ہم اس طرف سے تیار ہیں، لیکن ان ڈسپلے کی قیمت ان کیلئے ہے۔ کیہان اخبار کے چیف ایڈیٹر نے تاکید کی ہے کہ ہمیں ہمیشہ تیار رہنا چاہیئے، لیکن صیہونی حکومت اور خود امریکہ کو بہت سخت ضربیں لگیں۔ کیا اس سے پہلے کسی نے امریکہ پر حملہ کرنے کی جرات کی، ہم نے عین الاسد اور العدید کو نشانہ بنایا۔ تحریر: مھدی طلوع وند

معروف ایرانی اخبار کیہان کے چیف ایڈیٹر حسین شریعتمداری نے گذشتہ رات (جمعرات 26 دسمبر) سما نیوز نیٹ ورک کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ایران میں امریکی حملے کی ناکامی اور امریکی حملے کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی کے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے پر سرسری نظر ڈالنے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ 90 ملین سے زیادہ ایرانی واضح طور پر جانتے ہیں کہ اسرائیل کو شکست ہوئی، لیکن اندر اور باہر کچھ آوازیں کہتی ہیں کہ ایران ناکام ہوگیا ہے۔ ان لوگوں کے پاس کوئی دلیل یا دستاویزی ثبوت نہیں ہے۔ جناب شریعت مداری نے صیہونی حکومت کے رویئے کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ یہ حکومت کسی بھی بین الاقوامی ریڈ لائن پر عمل نہیں کرتی اور جنگ کے دوران جب بھی جنگ بندی قائم ہوئی تو اس نے بغیر کسی وضاحت کے فوراً اس کی خلاف ورزی کی۔

تاہم مسلط کردہ 12 روزہ جنگ میں یہ حکومت انتہائی مشکل حالات کی وجہ سے جنگ بندی کو توڑنے میں ناکام رہی۔ یہ جنگ ہمارے لیے مواقع کا ایک دھماکہ تھا اور ایک معتبر میڈیا رپورٹ میں واضح طور پر اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو ایک بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ شریعتمداری نے تاکید کی ہے کہ صیہونی تجزیہ نگاروں اور معتبر اخبارات نے لکھا ہے کہ ان کی دفاعی تہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہیں اور حالات مزید خراب ہوگئے ہیں۔ یہاں تک کہ بی بی سی کے رپورٹر نے بھی اسرائیلی عوام کی مایوسی اور نامرادی کو ان کے چہروں پر دیکھا اور کہا کہ کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ ایران کے حملے اتنے وسیع ہوں گے۔

اس افواہ کے بارے میں کہ ایران نے امریکہ کو پیغام دیا ہے، شریعتمداری نے کہا ہے  یہ افواہ سراسر جھوٹ ہے۔ چار اہم حکومتی مراکز کی سرکاری تردید کے باوجود کچھ میڈیا اداروں اور حتیٰ کہ حکومت کے اندر حساس عہدوں پر فائز افراد نے یہ جھوٹ پھیلایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا یہ کہانی صدر مسعود پزشکیان کے بن سلمان کو لکھے گئے خط سے شروع ہوئی، جسے رائٹرز نے شائع کیا اور وزارت خارجہ، حج آرگنائزیشن کے سربراہ، حکومتی ترجمان اور سعودی عرب میں ایرانی سفیر کی طرف سے اس کی تردید کی گئی، لیکن پھر بھی کچھ لوگوں نے اس جھوٹ کو پھیلایا۔ کیہان اخبار کے چیف ایڈیٹر نے تاکید کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہمارا مسئلہ رابطے یا اس طرح کے پیغامات بھیجنے کا نہیں ہے اور نہ ہی کسی حکومت نے اس کی کوشش کی ہے اور یورپ اور دوسرے ممالک بھی ثالثی نہیں کرسکتے ہیں، کیونکہ اسلامی جمہوریہ اس مسئلہ کو قبول نہیں کرتا۔

شریعتمداری نے اپنے تجزیہ میں کہا ہے کہ ہمیں ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیئے۔ امریکہ اور صیہونی حکومت ایران کو "نہ جنگ اور نہ امن" کی حالت میں رکھنے کے لیے ایک چال چل رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: مثال کے طور پر وہ تل ابیب کے ہوائی اڈے پر امریکی اور یورپی ہتھیاروں کی آمد کو مسلسل دکھاتے ہیں۔ یہ ہتھیار پہلے بھی آتے تھے، لیکن ان کی نمائش نہیں کی جاتی تھی۔ اب وہ ایسا دکھاوا کرتے ہیں، جیسے وہ تیاری کر رہے ہوں۔ ہم اس طرف سے تیار ہیں، لیکن ان ڈسپلے کی قیمت ان کے لئے ہے۔ کیہان اخبار کے چیف ایڈیٹر نے تاکید کی ہے کہ ہمیں ہمیشہ تیار رہنا چاہیئے، لیکن صیہونی حکومت اور خود امریکہ کو بہت سخت ضربیں لگیں۔ کیا اس سے پہلے کسی نے امریکہ پر حملہ کرنے کی جرات کی، ہم نے عین الاسد اور العدید کو نشانہ بنایا۔

امریکہ کے لئے یہ ایک آپریشنل اور وقار کا دھچکا تھا۔ اگرچہ جواری جھوٹے ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران پر 12 روزہ مسلط کردہ جنگ میں ان کا حملہ بہت مؤثر تھا، جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکی طیارے ایران پر حملہ کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے، لیکن انہوں نے کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کی۔ اس کے برعکس ہماری دشمن کو لگائی گئی ضرب کاری تھی۔ شریعتمداری نے تاکید کی ہے کہ صیہونی حکومت اور امریکہ کے لیے یہ ایک دھچکا تھا۔ وہ امپیریالسٹ شہنشاہ کی طرح دنیا پر حکمرانی کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کا بھرم ٹوٹ چکا ہے، ساکھ خراب ہوچکی اور ان کو جو نقصان پہنچا ہے، اس کا ازالہ بہت مشکل ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پوٹن امن منصوبے پر بات کو تیار لیکن یوکرین کے لیے وارننگ
  • دشمن کی نہ جنگ نہ امن کی خطرناک سازش
  • بدل دو نظام تحریک کاباقاعدہ آغاز،حافظ نعیم کا پنجاب کے بلدیاتی قانون کیخلاف مظاہروں کا اعلان
  • پنجاب کے بلدیاتی نظام کے خلاف جماعت اسلامی کا 7 دسمبر کو صوبہ گیر احتجاج کا اعلان
  • ہم نے مذاکرات میں بہت کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہوسکا: چیئرمین پی ٹی آئی
  • پاکستان اور بحرین کے باہمی احترام و اعتماد کو معاشی تعاون میں بدلیں گے: وزیراعظم شہباز شریف
  • ہم نے مذاکرات میں بہت کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہوسکا: بیرسٹر گوہر
  • پاکستان اور بحرین کے باہمی احترام و اعتماد کو معاشی تعاون میں بدلیں گے، وزیراعظم شہباز شریف
  • مینار سے میدان تک؛ امت کا عہد اور انقلاب کی نئی صبح