کس طرح اہل ثروت نے عورت کو عیاشی کا ذریعہ بنایا یہ ایک طویل کہانی ہے، یہاں تک کہ 80 اور 90 سالہ امیر بڈھے کے بھی سولہ سالہ لڑکیوں کے ساتھ نکاح پڑھائے گئے جو کچھ عرصے بعد اس دنیا سے سدھار گیا،اور پیچھے رہ جانے والی نوجوان بیوہ بے بسی کی تصویر بن گئی۔
ہوشیار لوگوں نے اسے کاروبار بنا لیا اور غریب پسے ہوئے بے بس لوگوں نے اپنی بیٹیاں امیر بڈھوں سے بیاہ کر اس کے اچھے خاصے دام کھڑے کیے۔ دولت مندوں نے اپنی سہولت کے لیے بہت سے راستے نکال رکھے ہیں، مذہبی احکامات کی بھی اپنی مرضی کے مطابق تشریح کی جاتی ہے اور ہر جگہ اپنی سہولت ڈھونڈی جاتی ہے۔
یہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ یتیم خاندانوں کے سرپرست ان کے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں، زیادہ تر مرحومین کا بھائی،چچا یا ماموں، تو یتیم لڑکیاںپھر ان کی اولادیں ہوئیں ۔ مگر یہ رشتے دار بھی یتیموں کا مال ہڑپ کرنے کی کوششیں شروع کر دیتے ہیں۔امیر بڈھے غریب رشتے دار لڑکی کو سہارا دینے کی آڑ میں اس سے بیاہ رچا لیتے ہیں۔اگر سہارا ہی دینا ہے تو پھر معذور،عمر رسیدہ اور بیوہ سے شادی کیوں نہیں کی جاتی،کیا ان عورتوں کو سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
نہایت آرام سے اور ذرا بھی دکھ یا ندامت محسوس کیے بغیر یتامیٰ کے ساتھ (لڑکیاں) لکھا جاتا ہے کیوں اور کس بنیاد اور کس قرینے سے؟دراصل یہ اس طویل دور کا شاخسانہ ہے جب حکمرانوں نے اپنے اعمال اور عیاشیوں کے لیے اپنی مرضی سے ’’تاویلات‘‘ اور جوازات نکالے اور پھر یہ سلسلہ اوپر سے نیچے تک پھیل گیا۔پرانے زمانے میں جب کوئی بادشاہ فتوحات کرتا اور بے پناہ مال غنیمت مل جاتا تو اس سے امیروں کا ایک طبقہ پیدا ہو جاتا۔ظاہر ہے کہ آسانی سے ملنے والی دولت کا نتیجہ عیاشیوں اور فحاشیوں کی صورت میں نکلتا ہے۔
چنانچہ اوپر سے نیچے تک کی عیاشیوں فحاشیوں کے لیے جواز اور تاویل پیدا کرنے والے یا ’’کور‘‘ فراہم کرنے والے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے اور نہانے لگے اور اشرافیہ کو زیادہ سے زیادہ شادیوں کی اجازت خوب کام آئی، اسے معاملے کو اپنے سیاق و سباق سے جدا کرکے استعمال کیا گیا۔ اسلام نے چار شادیوں کی اجازت صرف یتمیوں اور بیواؤں کے تحفظ اور بہبود کے لیے دی ہوئی ہے، بے تحاشا شادیوں کے لیے نہیں بلکہ ایک طرح سے ایک اچھا مسلمان معاشرہ بنانے کے لیے۔
یہ تو ہم سب مانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں عورت کماؤ نہیں ہوتی مرد ہوتا ہے اور اگر عورت بچوں کے ساتھ بیوہ ہوجائے تو اسے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر عزیز انھیں سہارا اور تحفظ نہ دیں تو کون دے گا۔اسے بھی لوگ لوٹ لیں گے اور اس کے مال اور جائیداد کو بھی۔اس لیے عورت پر خدا کا احسان ہے کہ اسے دوبارہ شادی کی اجازت مل جاتی ہے۔ یہ ہوس کار مرد ہر دور میں اس معصوم عورت کا شکاری رہا ہے۔
وہ ایک دانا کا قول ہے کہ دنیا میں ایسے بے شمار مرد ہوسکتے ہیں جن کی بیویاں نہ ہوں یا جس کی بہنیں نہ ہوں اور یا بیٹیاں نہ ہوں لیکن ایسا کوئی انسان نہیں جس کی ماں نہ ہو ۔ بعض ممالک میں امیر طبقہ چار پانچ شادیوں پر بھی قانع نہیں ہوتا ،امیر لوگ چار عورتوں کو تو ہمیشہ اسٹاک میں رکھتے ہیں خاص طور پر ایسے ممالک میں جہاں دولت بے پناہ ہے ایک کو طلاق دے کر ،اسے ایک گھر اور نان نفقہ دے کر الگ کر دیا جاتا ہے پھر نئی شادی رچا لی جاتی ہے۔
مشہور کردار اسامہ بن لادن کا باپ’’لادن‘‘ شاہی خاندان کا منظور نظر ٹھیکیدار اور بے پناہ دولت مند تھا وہ اپنی (تئیسویں) بیوی سے نکاح کرنے اپنے ذاتی طیارے میں جارہاتھا کہ جہاز کریش ہوگیا اور وہ(تئیسویں) بیچاری اس کی شفقت سے محروم رہ گئی۔
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مشعال یوسف زئی کی علامہ ناصر عباس پر سخت تنقید، اپوزیشن اجلاس کی اندرونی کہانی سامنےآگئی
سٹی42: مشال یوسفزئی کی علامہ ناصر عباس کے درمیان کیا ہوا، پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی "اندرونی کہانی" سامنے آگئی۔
پی ٹی آئی کی سینیٹ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں خیبر پختونخوا سے سینیٹر مشال یوسف زئی نامزد اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس کے خلاف کھڑی ہو گئیں۔
مشال یوسفزئی نے کہا اگر آپ کو بانی پی ٹی آئی نے اختیار دے ہی دیا ہے تو کچھ کر کریں توسہی۔
پاکستان نے افغانستان سے تاجکستان سرحد پر چینی شہریوں پرحملہ بزدلانہ فعل قرار دیدیا
مشال یوسفزئی نے ناصر عباس پر طنز کرتے ہوئے کہا، آپ کی پارٹی ہے ہی کتنی، لیکن اس کے باوجود آپ پر اعتماد کیا۔
مشال یوسفزئی نے محمود اچکزئی کی سرگرمیوں پر سوال اٹھایا اور کہا، محمود اچکزئی کوئٹہ کیوں گئے۔ انہیں اسلام آباد میں موجود ہونا چاہیے۔
ناصر عباس نےمحمود اچکزئی کے متعلق مشال یوسفزئی کی تنقید کا جواب دیا ور کہا، محمود اچکزئی اپنے والد کی برسی کے لئے گئے ہیں۔
شہر کی فضا بدستور آلودہ،سول سیکرٹریٹ میں آلودگی کی شرح خطرناک حد سے تجاوز کر گئی
علامہ ناصر عباس نے مشال یوسفزئی سے کہا، اگر اپ کو کوئی شکایت ہے تو اسد قیصر یا پارٹی کی قیادت سے بات کریں۔
علامہ ناصر عباس نے کہا، میں اور محمود اچکزئی دوسری جماعتوں کے سربراہ ہیں۔ اگر آپ کو پارٹی سے شکایت ہے تو اپنی قیادت سے بات کریں۔
بعض ذرائع نے بتایا کہ سینیٹر مشعال یوسف زئی نے ناصر عباس کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا۔ ان ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے کئی سینیٹرز مشعال یوسفزئی کے سخت رویے کی وجہ سے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس چھوڑ کر چلےگئے۔
بلوچستان میں نان کسٹم پیڈگاڑیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
Waseem Azmet