فٹ پاتھ پر پینٹنگ بیچتا ہوا نوجوان
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اسلام آباد کے بحریہ انکلیو کے قریب فٹ پاتھ پر بیٹھ کر رنگ اور برش سے دنیا کو نیا انداز دینے والے مسٹر عباس اپنی فنی صلاحیتوں سے ہر گزرتے ہوئے شخص کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لیتے ہیں۔ فنکارانہ مزاج رکھنے والے عباس کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جہاں مصوری صرف ایک شوق نہیں بلکہ وراثت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پینا فلیکس کی جدید ٹیکنالوجی نے فن خطاطی کو کس طرح نقصان پہنچایا؟
انہوں نے تصویری فن اپنے والد اور دیگر بزرگوں سے سیکھا اور بچپن سے ہی رنگوں کے ساتھ جڑتی اس محبت کو آج تک دل سے سنبھالے رکھا ہے۔
مسٹر عباس مختلف ثقافتی مناظر، خطاطی اور نمائشی آرٹ کے ذریعے اپنی ہنرمندی پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سڑک کنارے آرٹ دکھانا کوئی شرمندگی نہیں، اصل بات یہ ہے کہ کام معیاری ہو اور دیکھنے والے کو متاثر کرے۔ ان کے مطابق فن اپنی جگہ خود بناتا ہے، چاہے وہ فٹ پاتھ پر بیٹھ کر ہی کیوں نہ تخلیق کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: سنہرے اوراق پر کی گئی خوبصورت خطاطی
روزانہ کئی گھنٹے محنت کرنے والے مسٹر عباس نہ صرف اپنی محنت سے روزگار کماتے ہیں بلکہ اسلام آباد میں اس فٹ پاتھ کو ایک خوبصورت آرٹ گیلری کا روپ بھی دیتے ہیں۔ ان کے فن نے ثابت کیا ہے کہ جذبہ راستہ خود بنا لیتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فٹ پاتھ
پڑھیں:
اُن عناصر کا احتساب ہونا چاہئے جو صدام کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کے حامی تھے، سید عباس عراقچی
اپنے ایک خطاب میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جرمنی کو چاہئے کہ وہ اُن کمپنیوں اور عناصر کیخلاف جامع تحقیقات کرے جو صدام کے جرائم میں سہولت کاری کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ روز "ہالینڈ" کے شہر "ہیگ" میں کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کے کنونشن کے رکن ممالک کا 30ویں اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" نے شركت كی اور خطاب بھی کیا۔ آج اپنی گفتگو كے چند تراشوں كو سید عباس عراقچی نے سماجی رابطے كی سائٹ ایکس پر پوسٹ کیا۔ جس میں انہوں نے لکھا کہ ایران کا اتفاقِ رائے سے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کی ایگزیکٹو کونسل کا رکن منتخب ہونا، اُن سب کرداروں کے لیے ایک بامعنی قدم ہے جو کیمیائی ہتھیاروں سے پاک دنیا پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدام حکومت کے کیمیائی حملوں سے شدید نقصان اٹھانے کی وجہ سے ایران، اپنے چہرے پر دائمی زخم رکھتا ہے جو اب بھی ہزاروں متاثرین اور اُن کے خاندانوں کے لیے درد و رنج کا باعث ہے۔ سید عباس عراقچی نے بیان کیا کہ اس کانفرنس میں "سردشت" کی غیور عوام کے نمائندے جناب "کمال حسین پور" بھی میرے ساتھ تھے۔ سردشت وہ شہر ہے جو دنیا بھر میں استقامت، درد و رنج اور انصاف کے مطالبے کی علامت ہے۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ سردشت کی عوام نے کیمیائی حملوں کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے اثرات اب بھی جاری ہیں۔ جن میں امریکہ کی وہ غیرمنصفانہ پابندیاں شامل ہیں جنہوں نے اس وقت صورتحال کو مزید سنگین کر دیا جب ہم پر کیمیکل ہتھیاروں سے متاثرین کے لئے ضروری ادویات اور طبی امداد کی رسائی محدود کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اب سچائی کو سامنے لانا ہوگا اور ان لوگوں کو کٹہرے میں لانا ہوگا جنہوں نے صدام کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کو سپورٹ کیا۔ اس حوالے سے ڈچ حکام کی وہ عدالتی تحقیقات قابل تعریف ہیں جس کے نتیجے میں ایک ڈچ شہری کی گرفتاری عمل میں آئی اور اسے سزا ہوئی۔ تاہم اس گھناونے جرم کے مقابلے میں یہ بہت چھوٹا قدم ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم جرمنی سے اپنی گزشتہ تحقیقات کے نتائج جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی کو چاہئے کہ وہ اُن کمپنیوں اور عناصر کے خلاف جامع تحقیقات کرے جو صدام کے جرائم میں سہولت کاری کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ہم امریکہ و برطانیہ سمیت دیگر ممالک کی کمپنیوں کا ٹرائل شروع کرنے پر بھی زور دیتے ہیں جو صدام کے کیمیائی ہتھیاروں کے جنون میں برابر کے شریک تھے۔