نور مقدم کیس میں جسٹس باقر کا نوٹ سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
نور مقدم کیس میں سپریم کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کا نوٹ سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا۔مجرم ظاہر جعفر کے ہاتھوں اس کی دوست نور مقدم کے اغوا، ریپ اور قتل کے مقدمہ میں جسٹس باقر نجفی نے مجرم کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد ہونے سے متعلق ایک نوٹ تحریر کیا۔جسٹس علی باقر نجفی نے نوٹ میں لڑکے لڑکی کا بغیر نکاح کے ایک ہی گھر میں رہنا یا لیونگ ریلیشن شپ(Living Relationship) پاکستانی معاشرے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔نوٹ میں کہا گیا کہ لیونگ ریلشن شپ جو نہ صرف سماجی بگاڑ کا سبب بنتا ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہے، نور مقدم قتل کیس اس کی ایک بھیانک مثال ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی کے نوٹ پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے لکھا کہ کسی عورت کے قتل کو 'لیونگ ریلیشن شپ' کے نتیجے کے طور پر پیش کرنا نہ قانون ہے اور نہ ہی انصاف ہے، یہ واضح طور پر متاثرہ خاتون پر الزام تراشی ہے۔ پی ٹی آئی کی سابقہ رکن قومی اسمبلی بیرسٹر ملیکہ بخاری نے کہا کہ وہ جسٹس باقر نجفی کے مشاہدات پڑھ کر شدید صدمے میں ہیں۔ اعلیٰ عدالتوں میں بیٹھے ججوں کو اخلاقی تبصرے سے مکمل گریز کرنا چاہیے۔سیاسی کارکن ریحام خان نے لکھا کہ جسٹس نجفی شاید بھول گئے کہ قانونی شوہر بھی بیویوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرتے ہیں۔سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی صاحبزادی سارا تاثیر نے لکھا کہ سب سے پہلے تو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ لِو ان ریلیشن شپ ہے، لیونگ ریلیشن شپ نہیں ہے۔سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) اسلام آباد آمنہ بیگ نے اس معاملے سوشل میڈیا پر ردعمل دیا کہ نور مقدم لیونگ ریلیشن شپ میں نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ نور مقدم کو ظاہر جعفر نے اپنے ہاتھوں قتل کرنے سے پہلے 2 دن سے یرغمال بنارکھا تھا۔یاد رہےکہ نور مقدم کی لاش 20 جولائی 2021 کو اسلام آباد سے برآمد ہوئی تھی اور پولیس نے اسی دن مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو جائے وقوعہ سے گرفتار کرلیا تھا۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: لیونگ ریلیشن شپ سوشل میڈیا پر باقر نجفی
پڑھیں:
ذہنی صحت کا سوشل میڈیا کے استعمال سے کیا تعلق ہے؟
امریکی محققین کے مطابق نوجوانوں میں صرف ایک ہفتے تک سوشل میڈیا کا استعمال محدود کرنے سے ذہنی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سوشل پلیٹ فارمز سے دوری نے بے چینی، ڈپریشن اور بے خوابی کی علامات میں واضح کمی پیدا کی۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا کس وقت ذہنی صحت کے لیے مضر ہوتا ہے؟
مطالعے کے دوران 295 نوجوانوں نے اپنی روزانہ کی سوشل میڈیا سرگرمی کو تقریباً 2 گھنٹے سے کم کر کے صرف 30 منٹ تک محدود کیا۔ ہر شریک کو اس تحقیق میں حصہ لینے کے لیے 150 ڈالر ادا کیے گئے۔ ایک ہفتہ مکمل ہونے کے بعد کیے گئے سروے میں اوسطاً یہ نتائج سامنے آئے۔
بے چینی کی علامات میں 16.1 فیصد کمی
ڈپریشن کی علامات میں 24.8 فیصد کمی
بے خوابی کی علامات میں 14.5 فیصد کمی
تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ بہتری اُن نوجوانوں میں دیکھی گئی جن میں پہلے سے ڈپریشن کی علامات زیادہ تھیں۔ تاہم شرکا نے تنہائی کے احساس میں کسی واضح تبدیلی کی اطلاع نہیں دی۔
یہ بھی پڑھیں: کم عمری میں اسمارٹ فون کا استعمال ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ، تحقیق
تحقیق جے اے ایم اے نیٹ ورک اوپن میں شائع ہوئی۔ ماہرین کے مطابق یہ نتائج حوصلہ افزا ضرور ہیں، مگر ہر فرد کے لیے یکساں نہیں ہو سکتے۔ بعض شرکا نے نمایاں بہتری محسوس کی جبکہ کچھ میں معمولی یا کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ماہرین نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا کا استعمال کم کرنا ذہنی صحت کی واحد یا بنیادی حکمت عملی نہیں ہونا چاہیے، تاہم یہ ایک سادہ اور مفت حل ہے جس سے نوجوانوں کو فوری فائدہ ہو سکتا ہے۔
تحقیق سے وابستہ کچھ حدود بھی ہیں کیونکہ یہ ایک رضاکارانہ مطالعہ تھا، جس میں شریک افراد پہلے ہی بہتری کی امید رکھتے ہوں گے۔ اس کے باوجود یہ نتائج سوشل میڈیا اور ذہنی صحت کے حوالے سے جاری مباحثے میں اہم اضافہ تصور کیے جارہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی صحت سوشل میڈیا محدود استعمال