سپریم کورٹ نے بغیر قانونی طریقہ کار کے گرفتاری اور تشدد مجرمانہ عمل قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
سپریم کورٹ نے بغیر قانونی طریقہ کار کے گرفتاری اور تشدد مجرمانہ عمل قرار دیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 29 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس) پولیس کی جانب سے شہریوں کو حبس بے جا میں رکھنے کے خلاف سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نےبغیرقانونی طریقہ کارکےگرفتاری اور تشدد مجرمانہ عمل قراردیدیا،ڈیرہ غازی خان کے تین پولیس کانسٹیبلز کی نوکری سےبرخاست کرنےکےخلاف اپیل مستردکردی گئی،جسٹس جمال مندوخیل نےڈیرہ غازی خان کےتین پولیس کانسٹیبلزکی اپیل پر فیصلہ جاری کردیا۔
فیصلےمیں قراردیا کہ انسان کی عزت نفس،گھرکی پرائیویسی اورآئین کےتحت بنیادی حقوق کی پامالی کسی صورت قابل قبول نہیں،آئین کا آرٹیکل 14 شہریوں کےوقاراور انکی نجی آزادی کےتحفظ کو یقینی بناتا ہے۔
فیصلےمیں کہا گیا کہ پولیس کو گرفتاری کا اختیار ضرور، مگر یہ آئینی تقاضوں کے مطابق ہے،بغیر قانونی طریقہ کار کے گرفتاری اور تشدد مجرمانہ عمل ہے۔
تینوں افراد پر زریاب خان نامی شخص کوغیرقانونی حراست میں رکھنےکا الزام تھا،تینوں اہلکاروں پر حبس بےجا میں رکھ کر شہری کو ٹارچر کرنے کا الزام تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنو مئی ریڈیو پاکستان پشاور حملہ کیس، ملزمان کی فرانزک تصدیق کیلئے درخواست دائر نو مئی ریڈیو پاکستان پشاور حملہ کیس، ملزمان کی فرانزک تصدیق کیلئے درخواست دائر وائٹ ہاؤس فائرنگ کے افغان ملزم کو سیاسی پناہ کس نے دی؟ اہم انکشاف افغان پاسپورٹس پر امریکی ویزے اور اسائلم کی درخواستوں پر کام بند وفاقی دفتر خزانہ اسلام آباد میں منظم بے ضابطگیوں کا میگا اسکینڈل بے نقاب پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ یکجہتی فلسطین منایا جا رہا ہے اسرائیل کا حماس کی سرنگوں میں اب تک 30 فلسطینیوں کو شہید کرنے کا دعویٰCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: گرفتاری اور تشدد مجرمانہ عمل سپریم کورٹ
پڑھیں:
انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کیلیے مقرر
اسلام آباد:انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کرلیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ملکی انتخابی نظام کو غیر اسلامی قرار دینے کا کیس عدالت عظمیٰ نے سماعت کے لیے مقرر کرلیا۔ جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ 5دسمبر کو کیس کی سماعت کرے گا۔
واضح رہے کہ شریعت اپیلیٹ بینچ کم و بیش ڈیڑھ سال بعد تشکیل دیا گیا ہے ۔
انتخابی نظام غیراسلامی قرار دینے کی درخواست 36سال قبل دائر ہوئی تھی ۔ شریعت کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومت نے 1989ء میں اپیلیں دائر کی تھیں۔