جرمن صدر کا اسپین کے قصبہ گرنیکا کا دورہ، نازی جرمنی کی بمباری میں ہلاک ہونے والوں کے لیے عقیدت کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
جرمن صدر کا اسپین کے قصبہ گرنیکا کا دورہ، نازی جرمنی کی بمباری میں ہلاک ہونے والوں کے لیے عقیدت کا اظہار WhatsAppFacebookTwitter 0 29 November, 2025 سب نیوز
بیجنگ : سپین کے سرکاری دورے پر موجود جرمن صدر فرینک والٹر اسٹائن مائر نے اسپین کے خود اختیار باسک خطے میں واقع قصبہ گرنیکا کا دورہ کیا، جو 1937 میں نازی جرمنی کی بمباری کا نشانہ بنا تھا۔اس دن، شاہ سپین فلپ ششم اور باسک خطے کے صدر پراڈیلس کے ہمراہ، اسٹائن مائر نے بمباری میں ہلاک ہونے والوں کے قبرستان میں پھول رکھے اور متاثرین سے دکھ کا اظہار کیا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ گرنیکا پر بمباری ایک ظالمانہ جرم تھی جس کا واحد نشانہ عام شہری تھے۔ اسٹائن مائر نے یہ بھی کہا کہ لوگ اس سانحے سے ہونے والے دکھ کو کبھی نہیں بھولیں گے اور امن کے تحفظ کے لیے کام کریں گے۔ اسٹائن مائر اس قصبے کا دورہ کرنے والے پہلے جرمن صدر بن گئے ہیں۔
اس سے قبل، سابق جرمن صدر رومن ہرزوگ نے 1997 میں گرنیکا پر بمباری کی 60 ویں برسی کے موقع پر، مقامی باشندوں سے معافی مانگی تھی۔26 اپریل 1937 کو، ہسپانوی خانہ جنگی کے دوران، نازی جرمنی کے فوجی دستے نے روایتی بم اور نیپام بم استعمال کرتے ہوئے گرنیکا پر بمباری کی اور بھاگنے والے شہریوں پر مشین گنوں سے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچینی افواج کی ہوانگ یئن جزیرے کے علاقائی پانیوں اور فضائی حدود میں جنگی تیاریوں کے تحت نگرانی چینی افواج کی ہوانگ یئن جزیرے کے علاقائی پانیوں اور فضائی حدود میں جنگی تیاریوں کے تحت نگرانی ہانگ کانگ میں آگ لگنے سے ہلاک ہونے والوں کے لیے تعزیتی تقریبات کا انعقاد وائٹ ہاؤس فائرنگ کے افغان ملزم کو سیاسی پناہ کس نے دی؟ اہم انکشاف افغان پاسپورٹس پر امریکی ویزے اور اسائلم کی درخواستوں پر کام بند اسرائیل کا حماس کی سرنگوں میں اب تک 30 فلسطینیوں کو شہید کرنے کا دعویٰ تاجکستان میں چینی شہریوں کی ہلاکت، چین کی شہریوں کو سرحدی علاقے سے فوری انخلاکی ہدایتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
امریکی قرارداد میں فلسطین کے حق خودارادیت کو تسلیم نہ کرنے پر روس کا اظہار تشویش
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
روس نے فلسطین کی حق خودارادیت کو تسلیم نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ روس نے غزہ پر امریکی قرارداد 2803 پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جسے 17 نومبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا، اس قرارداد کو 13 ووٹوں کے ساتھ منظور کیا گیا جبکہ روس اور چین نے ووٹنگ سے اجتناب کیا۔
ماریا زخارووا نے بتایا کہ امریکی منصوبہ جسے “پیس کونسل” اور “انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس” کے قیام کے لیے تیار کیا گیا فلسطینی حکام کی شمولیت کے بغیر تیار کیا گیا اور اسرائیل کی بطور قابض طاقت ذمہ داریوں کو واضح نہیں کرتا، اس کے علاوہ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کا سیکرٹریٹ اس عمل میں مکمل طور پر خارج کیا گیا ہے۔
زخارووا نے کہا ہے کہ قرارداد 2803 نہ تو فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن و سلامتی کے قیام میں مددگار ہے، روس نے ووٹنگ سے اس لیے اجتناب کیا کہ فلسطینی اتھارٹی اور مسلم ممالک کی حمایت کے پیش نظر کسی نئی خونریزی کا راستہ نہ کھلے۔
روسی ترجمان نے مزید کہا ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران واشنگٹن نے چھ بار فوری جنگ بندی کی قراردادوں کو ویٹو کیا جس کے سبب غزہ میں جاری جنگ اور انسانی المیے کو روکا جا سکتا تھا، روس کی کوشش ہے کہ قرارداد 2803 کسی بھی غیر قانونی تجربے یا فلسطینی حق خودارادیت کی پامالی کا جواز نہ بنے۔
نمائندہ دنیا نیوز کی جانب سے سوال پوچھا گیا کہ صدر پوٹن نے ہمیشہ اسلامو فوبیا کے خلاف بات کی ہے، اسلام اور مسلمانوں کے احترام پر زور دیا ہے، پاکستانی عوام صدر پوٹن کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، کیا صدر پوٹن کا مستبقبل میں پاکستان کے دورے کا کوئی ارادہ ہےِ؟
ماریا زخارووا نے کہا ہے کہ روس ایک کثیرالمذہبی ریاست ہے جہاں مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے لوگ بستے ہیں، آپ جانتے ہیں کہ روس کے کئی خطے ایسے ہیں جہاں صدیوں سے اسلام رائج ہے، ہمارے ملک میں بڑی تعداد میں مساجد موجود ہیں اور اسلام کے نمائندے عالمی سطح پر اہم مسائل پر ہونے والی حکومتی بات چیت میں حصہ لیتے ہیں جس سے ملکی اتحاد میں نمایاں کردار ادا ہوتا ہے، یہ صرف خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں بلکہ ہماری ثقافت، قوم نگاری اور تمدن کا بھی اہم جزو ہے۔
صدر ولادیمیر پوٹن کے دورہ پاکستان سے متعلق انہوں نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے صدر پوٹن کو باضابطہ دعوت دی جا چکی ہے اور اس طرح کی تمام سرگرمیوں کا حتمی اعلان صدارتی دفتر کی جانب سے ہی کیا جاتا ہے، جیسے ہی صدر پوٹن کے دورہ پاکستان کا کوئی فیصلہ ہوگا میڈیا کو بروقت آگاہ کر دیا جائے گا۔