افغانستان ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے، نائب وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ’میں نے کابل میں واضح کردیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دورہ روس میں وزارت خارجہ نے روسی انتظامیہ سے ملاقاتوں کا خط پہلے ہی بھیج دیا تھا، اس وجہ سے روسی وزیر خارجہ سرگئی، نائب وزیر اعظم الیکسی اوورچک سے علیحدہ علیحدہ باہمی ملاقاتیں ہوئیں، روسی نائب وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں مختلف روسی وزراء بھی موجود تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی برس کے بعد یورپی یونین کے صدر کے ساتھ کسی پاکستانی نے ملاقات کی، 2021 کے بعد سے 5 برس سے پاکستان ای یو مذاکرات التواء کا شکار تھے، یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندوں کے ساتھ انتہائی اہم ملاقات ہوئی، یہ ملاقات انتہائی خوشگوار اور بے تکلفی والے ماحول میں ہوئی۔
اس دورے سے ہمارے یورپی یونین سے رابطوں میں موجود کمی دور ہوئی، ساتواں اسٹریٹیجک ڈائیلاگ انتہائی اہم رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ ای یو.
انہیں بتایا کہ میں نے افغانستان کا ذاتی دورہ کیا اور افغان قیادت سے تمام موضوعات پر بات چیت کی، میں نے بتایا کہ افغانستان میں ہونے والے تمام فیصلوں اور وعدوں کو کابل میں ہی دنیا کے سامنے رکھا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ’میں نے کابل میں واضح کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، یا تو ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے۔
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
پاکستان نیشنل کونسل آرٹس میں روس–پاکستان ثقافتی ہم آہنگی کا شاندار مظاہرہ
اسلام آباد:اسلام آباد میں پاکستان اور روس کے درمیان دسویں بین الحکومتی کمیشن اجلاس کے موقع پر پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس میں ایک شاندار اور رنگا رنگ خصوصی کنسرٹ کا انعقاد کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کی ثقافتوں نے یکجا ہو کر سماں باندھ دیا۔
تقریب کی خاص بات روسی وزیر توانائی سرگئی تسویلیف کی خصوصی شرکت تھی، جنہوں نے روس اور پاکستان کے فنکاروں کی پرفارمنس کو بے حد سراہا۔
ان کے ہمراہ روسی نائب وزیر سائنس و اعلیٰ تعلیم، نائب وزیر توانائی اور وزارتِ ثقافت کے اعلیٰ حکام سمیت اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔
کنسرٹ میں اسٹیٹ اکیڈمک رشین فوک انسمبل نے روسی کلاسیکل میوزک کے رنگ بکھیرے اور ڈارک آئیز، پیڈلرز سمیت کلاسیکی روسی و سوویت دھنیں پیش کیں، جن پر حاضرین جھوم اٹھے۔
دوسری جانب پاکستان کے فنکاروں نے بھی مقامی موسیقی اور ثقافتی ورثے کی دلکش جھلک پیش کی جسے شائقین نے بے پناہ پسند کیا۔
تقریب میں موجود پاکستانی اور روسی شرکاء دونوں ممالک کے فوک کلچر سے بھرپور لطف اندوز ہوتے رہے۔