فائل فوٹو، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں۔

سیہون میں میڈیا سے گفتگو میں مراد علی شاہ نے کہا کہ جب 28ویں ترمیم سامنے آئے گی تو دیکھا جائے گا، جو چیز ہمارے سامنے آئی نہیں اس پر ردعمل کیا دیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام اور سندھ کی تقسیم کے افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں۔ پاکستان اور سندھ کے مفاد کے خلاف کچھ بھی پیپلز پارٹی قبول نہیں کرے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ گورنر کی تقرری کا اختیار وزیراعظم اور صدر کا ہے، ان کے علاوہ کسی کا کردار نہیں۔

مراد علی شاہ نے یہ بھی کہا کہ چینی کی قیمت کے معاملے پر تشویش ہے، جس کے لیے آج چیف سیکریٹری سے بات ہوئی ہے۔

.

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: مراد علی شاہ

پڑھیں:

نئے صوبوں کی بات ایک کان سے سنیں، دوسرے سے نکال دیں: مراد علی شاہ

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ—فائل فوٹو

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق تمام بحثوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبوں کی بات ایک کان سے سنیں اور دوسرے سے نکال دیں، اللّٰہ کے سوا کسی میں سندھ کو تقسیم کرنے کی طاقت نہیں۔

انہوں نے یہ بات پورٹ گرانڈ میں منعقدہ سندھ کرافٹ فیسٹیول میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے سندھ کی روایتی دستکاری اور فنون کے فروغ کے عزم پر زور دیا۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ہماری توجہ اس بات پر ہے کہ سندھ کے ثقافتی کام اور دستکاری کو وہ پہچان اور حوصلہ افزائی ملے جس کی وہ مستحق ہے۔

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بار بار اٹھنے والی بحث پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے ان باتوں کو مکمل طور پر رد کر دیا اور کہا کہ نئے صوبوں کی بات ایک کان سے سنیں اور دوسرے سے نکال دیں، اللّٰہ کے سوا کسی میں سندھ کو تقسیم کرنے کی طاقت نہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پہلے ہی اٹھارہویں ترمیم میں تبدیلی اور این ایف سی ایوارڈ کے حصے میں کمی کی تجاویز کو رد کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاملات مجوزہ ستائیسویں ترمیم میں بھی مسترد کر دیئے گئے تھے، پاکستان پیپلز پارٹی خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ہنر رکھتی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ نے پارٹی کے ترقیاتی وژن اور طرزِ حکمرانی کو اجاگر کیا اور سندھ میں گورنر کی تبدیلی سے متعلق سوال پر واضح کیا کہ نہ ان کا اور نہ ہی صوبائی حکومت کا اس معاملے میں کوئی کردار ہے، گورنروں کی تقرری میں ہم سے مشورہ نہیں کیا جاتا۔

اپنے ذاتی پسِ منظر کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں وکیل کا بیٹا ہوں اور بہت اچھے وکلاء کی صحبت میں کافی وقت گزارا ہے، اگر کسی نے دلائل دینے ہیں تو اس کے لیے عدالتیں موجود ہیں۔

مراد علی شاہ نے ان عناصر پر تنقید کی جو قانونی راستہ اختیار کیے بغیر بیانات دیتے ہیں اور کہا کہ کچھ لوگ عدالت میں گئے بغیر ہی وکیلوں کی طرح رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔

امن و امان کی صورتِحال کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سندھ نے چند گروہوں کی جانب سے عوامی زندگی متاثر کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 50 سے 150 افراد پورے شہر کو یرغمال بنا لیتے ہیں، جب بار بار سڑکیں بند ہوں گی تو حکومت کو کارروائی کرنا ہی پڑے گی۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پہلے کچھ معاملات کے لیے عمر کی حد مقرر کی تھی اور عدالت کی ہدایت کے بعد حکومت نے 5 سال کی رعایت دی تھی، ہم سے عدالت نے پوچھا اور ہم نے 5 سال کی عمر میں رعایت دے دی۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں آئندہ ہفتے سے نوکریاں دینے کا اعلان
  • مراد علی شاہ: سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں
  • گورنر کی تبدیلی میں سندھ کے وزیراعلیٰ کا کردار نہیں، ہم سے نہیں پوچھا جاتا، مراد علی شاہ
  • کراچی میں صاف پانی اور نکاسی آب نظام کیلئے 85.5 ارب روپے مختص کیے ہیں: وزیراعلیٰ سندھ
  • وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہونے والے 35ویں نیشنل گیمز کے انتظامات کوحتمی شکل دینے کے لیے اجلاس کی صدار ت کررہے ہیں
  • گورنر کی تبدیلی میں سندھ کے وزیر اعلیٰ کا کردار نہیں، ہم سے نہیں پوچھا جاتا، مراد علی شاہ
  • نئے صوبوں کی بات ایک کان سے سنیں، دوسرے سے نکال دیں: مراد علی شاہ
  • وزیراعلی مراد علی شاہ کی سندھ اسمبلی میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان کی سخت مذمت
  • بھارتی وزیر دفاع کی گیدڑ بھپکیاں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی: مراد علی شاہ