مصنوعی ذہانت آئندہ برسوں میں کتنی بے روزگاری پھیلانے والی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
ایک تازہ ترین رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن کے بڑھتے کردار کے سبب آئندہ دہائی تک 30 لاکھ کے قریب افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔
نیشنل فاؤنڈیشن فار ایجوکیشن ریسرچ (این ایف ای آر) کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ لوگوں کے پاس وہ ہنر موجود ہو جس سے ان کا روزگار برقرار رہے، بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔۔
ٹیم کے مطابق وہ شعبے جن کو بے روزگاری کا شدید خطرہ لاحق ہے ان میں ایڈمنسٹریٹیو، سیکریٹیریل، کسٹمر سروس اور مشین آپریٹرز شامل ہیں۔
این ایف ای آر نے خبردار کیا کہ یہ صرف ان شعبوں میں موجود ملازمین کے لیے خطرہ نہیں ہے بلکہ ان نوجوانوں کے لیے بھی خطرہ ہے جو کسی ہنر کے بغیر تعلیم کو چھوڑ دیتے ہیں۔
.ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نادرا نے عوام کو خبردار کر دیا
ویب ڈیسک : نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کو جعلی ویب سائٹ سے خبردار کردیا۔
نادرا نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ idcardtracking.online جعلی ویب سائٹ ہے، شہریوں بالخصوص بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ شناخت سے متعلق خدمات کے لیے ایجنٹوں یا تھرڈ پارٹی سروس فراہم کنندگان سے لین دین نہ کریں۔
نادرا کا کہنا ہے کہ فراڈ سے بچنے کے لیے صرف نادرا کا آفیشل پلیٹ فارم پاک آئی ڈی موبائل ایپ استعمال کریں۔
کاغان کے بازار میں آگ بھڑک اٹھی،50 کمروں پر مشتمل ہوٹل جل کر راکھ
اس سے قبل نادرا نے نیشنل سائبرکرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کوتحقیقات کیلئے شکایت جمع کرائی تھی۔
نیپال کرکٹ لیگ میں سٹہ، 9 بھارتی جواری گرفتار
نادرا کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں بالخصوص برطانیہ میں مقیم افراد ہوشیار رہیں۔ ترجمان نادرا کا کہنا ہے "نادراکارڈ سنٹر” کے نام سے جعلی ویب سائٹ سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ ویب سائٹ اوورسیزپاکستانیوں سے دھوکا اور جعلسازی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔
نادرا کے نام پر شناختی کارڈ اور نائیکوپ سے متعلق خدمات اور ملازمتوں کی فراہمی کو بھی فراڈ قرار دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق اس پلیٹ فارم پر کوئی بھی ذاتی معلومات، دستاویزات یا ادائیگیاں غلط استعمال ہوسکتی ہیں۔
پنجاب کی عوام کیلئے 3 مرلہ کے مفت پلاٹ، اپلائی کا آسان طریقہ سامنے آگیا