Jasarat News:
2025-11-29@16:42:46 GMT

کیا بچوں کی بھوک بڑھانے والی ادویات کا استعمال محفوظ ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بچوں میں کم بھوک ایک عام مگر والدین کے لیے تشویش کا باعث مسئلہ ہے، خاص طور پر ایسے بچے جو زیادہ فعال یا متحرک ہوں اور کھانے سے دور بھاگتے ہوں۔ بعض والدین اس مسئلے کے حل کے لیے بھوک بڑھانے والی ادویات کا سہارا لیتے ہیں، لیکن ماہرین صحت اس حوالے سے خبردار کرتے ہیں کہ یہ طریقہ نہ صرف غیر مؤثر بلکہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

پیڈیئٹرک ماہر ڈاکٹر روی ملک گپتا نے اس معاملے پر تفصیلی روشنی ڈالی اور بتایا کہ بچوں کو بھوک بڑھانے والی ادویات دینا طویل مدتی طور پر متعدد سنگین اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔

ڈاکٹر گپتا کے مطابق ”انڈین اکیڈمی آف پیڈیئٹرکس“ اور ”امریکن اکیڈمی آف پیڈیئٹرکس“ دونوں ہی بچوں کو ایسی دوائیں دینے کی سخت مخالفت کرتے ہیں، کیونکہ یہ محض عارضی حل فراہم کرتی ہیں اور طویل استعمال سے سنگین سائیڈ افیکٹس پیدا کر سکتی ہیں۔

ان ادویات میں اکثر ’سائپروہپٹادین‘ شامل ہوتا ہے، جو بچوں میں سر درد، چڑچڑاپن، الجھن، ہلکی چکر اور بعض اوقات الرجی جیسی علامات پیدا کر سکتا ہے۔ مزید یہ کہ طویل استعمال سے جگر پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر گپتا والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ بچوں کی بھوک بڑھانے کے لیے قدرتی اور محفوظ طریقے اپنائے جائیں۔ اس ضمن میں وہ تجویز کرتے ہیں کہ بچوں کے لیے متنوع اور مزیدار کھانے تیار کیے جائیں تاکہ بچے اپنی دلچسپی کے ساتھ کھائیں۔ کھانے پر زبردستی یا لالچ دینے سے بھی گریز کیا جائے اور بچوں کو کھانے کے دوران ٹی وی یا موبائل فون سے دور رکھا جائے تاکہ وہ توجہ مرکوز کر کے کھا سکیں۔

ماہرین کے مطابق بچوں کا کھانے کے ساتھ مثبت تعلق قائم کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ قدرتی طور پر صحت مند غذائی عادات اپنائیں اور دوائیوں پر انحصار نہ کریں۔ مناسب نیند بھی بچوں کی بھوک میں اہم کردار ادا کرتی ہے، لہذا والدین کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ بچوں کو مکمل اور پرسکون نیند ملے۔

اگر بچوں میں کم بھوک مستقل مسئلہ بن جائے، تو والدین کو فوراً ماہر بچوں کے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر مکمل جانچ کے بعد بچے کی مجموعی صحت کا جائزہ لیتا ہے اور بھوک کی کمی کی وجوہات کی شناخت کر کے درست رہنمائی فراہم کر سکتا۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ بچوں بچوں کو کے لیے

پڑھیں:

وزن بڑھانے کے لیے جنک فوڈ استعمال کرنے والا فٹنس انفلوئنسر ایک ماہ میں انتقال کر گیا

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

روس کے شہر اورینبرگ کا 30 سالہ فٹنس انفلوئنسر دمرتی نویانزن اپنی زندگی کے تجربے میں ایک مہلک غلطی کر بیٹھا، وزن بڑھانے کے لیے یومیہ 10 ہزار کیلوریز پر مشتمل انتہائی خطرناک ڈائٹ پلان اپنانے لگا، جس کے نتیجے میں چند ہفتوں کے اندر اس کا جسمانی وزن 105 کلوگرام تک پہنچ گیا اور وہ موت کے منہ میں جا پہنچا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فٹنس انفلوئنسر دمرتی نویانزن نے ابتدائی طور پر وزن میں کمی کا پروگرام شروع کرنے سے پہلے جسمانی حجم بڑھانے کا منصوبہ بنایا۔ اس نے روزانہ کی بنیاد پر جنک فوڈ پر بھاری مقدار میں کیلوریز استعمال کیں، جس میں ناشتے میں پیسٹری اور کیک، دوپہر کے کھانے میں مایونیز میں لت پت موموز اور رات کے کھانے میں برگر، پیزا اور دیگر ہائی کیلوریز اسنیکس شامل تھے۔ اس کے ساتھ ہی آلو کے چپس اور دیگر کیلوری بھری اشیاء بھی اس کی روزانہ خوراک کا حصہ تھیں۔

چند ہفتوں میں دمرتی کے وزن میں 13 کلوگرام کا اضافہ ہوا اور اس نے انسٹاگرام پر اپنی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے چپس کھاتے ہوئے نئے سنگ میل کا جشن منایا۔ 18 نومبر کو اپنی آخری پوسٹ میں اس نے فالوورز کو طبیعت کی خرابی کے بارے میں آگاہ بھی کیا، لیکن کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ پیغام اس کی زندگی کی آخری خبر بن جائے گا۔

ایک دن قبل دمرتی نے اپنی کوچنگ سیشنز منسوخ کر دیے اور دوستوں کو بتایا کہ وہ بیمار ہے اور ڈاکٹر سے ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مگر اگلے چند گھنٹوں میں نیند کے دوران دل کی حرکت رکنے سے دمرتی نویانزن زندگی کی بازی ہار گیا۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دمرتی کا دل اور دیگر اندرونی اعضا طویل عرصے تک ہائی کیلوریز خوراک کے دباؤ کے سبب متاثر ہوئے۔ اس طرح کی خوراک سے بلڈ شوگر، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے دل کو معمول کے مطابق کام کرنے کے لیے اضافی محنت کرنی پڑتی ہے۔ اگرچہ دمرتی دیگر زیادہ وزن والے افراد کے مقابلے میں نسبتا بہتر حالت میں تھا، لیکن خطرناک ڈائٹ پلان نے اس کی زندگی پر مہلک اثر ڈال دیا۔

یہ واقعہ ایک سبق آموز مثال ہے کہ فٹنس اور وزن کے حوالے سے حد سے تجاوز کرنے والے تجربات انسان کی صحت کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان

متعلقہ مضامین

  • وزن بڑھانے کے لیے جنک فوڈ استعمال کرنے والا فٹنس انفلوئنسر ایک ماہ میں انتقال کر گیا
  • ٹیکنالوجی سے کھانے تک دلچسپ سفر؛ سیمی کنڈکٹر بنانے والی فرم نے اسنیکس متعارف کرادیے
  • طلبہ کے مخصوص رنگ کے سوئٹر لازمی شرط ختم کی جائے، والدین ایکشن کمیٹی
  • سردیوں میں کشمش بھگو کر کھانے کے حیران کن فوائد
  • کافی کا استعمال عمر بڑھانے میں معاون ہو سکتا ہے: تحقیق
  • وزیراعلیٰ پنجاب نے خصوصی طلبہ کیلئے کھانے کی فراہمی کے پروگرام کا افتتاح کر دیا
  • آئی ایم ایف کا پاکستان سے ٹیکس کے استعمال میں شفافیت بڑھانے کا مطالبہ
  • شہریوں کی جانیں صرف جرمانے بڑھانے سے محفوظ نہیں ہو سکتیں‘بلال سلیم
  • یورپی پارلیمنٹ نے سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لئےکم از کم عمر 16 سال مقررکردی