data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن کے تیزی سے پھیلتے استعمال نے عالمی روزگار کے منظرنامے پر سنگین خدشات کھڑے کر دیے ہیں۔

نیشنل فاؤنڈیشن فار ایجوکیشن ریسرچ (این ایف ای آر) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو آئندہ دس برسوں میں برطانیہ میں تقریباً 30 لاکھ افراد اپنی ملازمتوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کی اس پیش قدمی سے نمٹنے کے لیے ملکی سطح پر ہنرمندی اور تربیت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایسے شعبے جہاں روزمرہ کام زیادہ تر ترتیب وار، دفتری یا مشینی نوعیت کے ہوتے ہیں، آٹومیشن کی زد میں سب سے پہلے آئیں گے۔ ان میں ایڈمنسٹریٹو اسٹاف، سیکریٹریل اسسٹنٹس، کسٹمر سروس کے نمائندے اور مشین آپریٹرز نمایاں طور پر شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان شعبوں میں انسانی کردار تیزی سے اسکینرز، سافٹ ویئر اور خودکار نظاموں سے تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں نوکریاں ختم ہونے کا خدشہ ہے۔

این ایف ای آر کا کہنا ہے کہ یہ خطرہ صرف ان افراد تک محدود نہیں جو پہلے سے ملازمت کر رہے ہیں، بلکہ ان نوجوانوں کے لیے بھی انتہائی تشویشناک ہے جو ہنر حاصل کیے بغیر تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا کہ ایسے نوجوان مستقبل کے خودکار نظاموں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ طبقہ بے روزگاری کے شدید دباؤ کا سامنا کرے گا۔

رپورٹ نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے بدلتے چیلنجز کے مطابق قومی سطح پر اسکل اپ گریڈیشن، جدید تربیت اور فنی تعلیم کے مؤثر پروگرام متعارف کرائیں، تاکہ آنے والے دور میں مزدور طبقہ اپنی جگہ برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھ سکے

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

ان لینڈ فریٹ سبسڈی کی عدم فراہمی، 16شوگر ملز کو عدالت سے ریلیف نہ مل سکا

کراچی:

سندھ ہائیکورٹ نے شوگر ملز کی ان لینڈ فریٹ سبسڈی کی عدم فراہمی کے خلاف 16 ملز کی درخواستیں خارج کر دی۔

ہائیکورٹ میں شوگر ملز کی ان لینڈ فریٹ سبسڈی کی عدم فراہمی کے خلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ وفاقی حکومت نے چینی کی برآمد کے لیے سبسڈی کا اعلان کیا تھا۔ نیب انکوائری کی بنیاد پر شوگر ملزم کو سبسڈی کا اجرا روک دیا گیا تھا۔

ٹڈاپ کے وکیل بیرسٹر اسد احمد نے موقف دیا کہ ٹڈاپ نے وزارت تجارت کی ہدایت پر سبسڈی کا اجرا روکا تھا۔ فنڈز کی موجودگی اور وزارت تجارت کی اجازت کے بعد ہی سبسڈی جاری کی جا سکتی ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بظاہر سبسڈی کے لیے منظور شدہ گرانٹ وقت گزرنے کے ساتھ ازخود ختم ہو چکی ہے۔ عدالت وفاقی حکومت کو سپلیمنٹری گرانٹ کا حکم نہیں دے سکتی۔ طے شدہ قانون ہے کہ سبسڈی فائدہ ہے بنیادی حق نہیں۔ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت گرانٹ کے لئے وفاقی حکومت کو رٹ جاری نہیں کی جا سکتی۔

عدالت نے 16 شوگر ملز کی سبسڈی ک  درخواستیں خارج کر دیں۔ ای سی سی منظوری کے باوجود سبسڈی روکنے پر شوگر ملز نے درخواستیں دائر کی تھیں۔

متعلقہ مضامین

  • مصنوعی مٹھاس جگر کی مہلک بیماریوں کے خطرات بڑھا سکتی ہے: تحقیق
  • رپورٹ: مصنوعی ذہانت اگلے چند سالوں میں لاکھوں افراد کو بے روزگار کر سکتی ہے
  • مصنوعی ذہانت آئندہ برسوں میں کتنی بے روزگاری پھیلانے والی ہے؟
  • انتخابی نظام  کو غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ برسوں بعد سپریم کورٹ میں سماعت کیلیے مقرر
  • بے روزگاری کی شرح میں اضافہ
  • غزہ میں جنگ بندی کے باوجود نسل کشی جاری ہے: ایمنسٹی انٹرنیشنل
  • انسان اور مشین کا اشتراک: مصنوعی ذہانت تخلیقی شراکت دار بھی بن گئی
  • ان لینڈ فریٹ سبسڈی کی عدم فراہمی، 16شوگر ملز کو عدالت سے ریلیف نہ مل سکا
  • صنعتی ترقی کے بغیر بے روزگاری کے جن پر قابو نہیں پایا جاسکتا ، میاں زاہد