اسرائیل کا دفاعی نظام لوہے کی دیوار کی مانند مضبوط ہے، یہ ایک مسلمہ حقیقت تھی اور جس طرح دیکھتے ہی دیکھتے اسرائیلی پروڈکٹس نے دنیا بھر کے ممالک میں اپنی شاخیں پھیلائیں، ان کی کامیابیاں جھنڈے گاڑتی گئیں۔
غالباً نہیں یقینا اس طرح کی باتیں چلتی ہی رہتیں لیکن سات اکتوبر 2023 کو اچانک ایسا ہوا کہ اسرائیل کے دفاعی نظام پرکاری ضرب لگی اور عیاں ہوگیا کہ اونچی دکان کے پھیکے پکوان ہیں۔
فلسطینی آزادی کے علم بردار حماس نے پیراگلائیڈنگ کے ذریعے گوریلا جنگجو، اسرائیل کے بقول ان کی ناقابل تسخیر زمین پر اتارے اور وہ کر دکھایا کہ جس سے دنیا دنگ رہ گئی۔
اسرائیلی عوام اپنی حکومت کی دفاعی ذمے داریوں کو شکست اور غصے کی نگاہ سے دیکھنے لگے، یہ طے پا گیا کہ لوہے کی دیوار میں دراڑ ڈالنے والے کمزور نہیں ہیں، انھوں نے باقاعدہ پلاننگ کی تھی اور مضبوط اعصابی جنگ کے لیے تیار لڑاکو کو زمین میں اتارا تھا۔
فلسطینی عوام پرجوش تھے پھر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے ایک بڑے حصے نے حماس سے بدلہ لینے کے لیے ان کی جارحیت کو روکنے کے لیے اتحاد کیا اور پھر جو کیا وہ آج تک سب کے سامنے ہے۔
اس گوریلا وار کو طوفان الاقصیٰ کا نام دیا گیا تھا جسے روکنے کے لیے اسرائیل کی اپنی فوج ناکامی اور کسی حد تک ناکارہ بھی تھی لہٰذا بھرتی کے لیے دنیا بھر میں اشتہار بازی بھی کی دنیا سے فنڈز بھی اکٹھے کیے قلیل تعداد محصورین کو چھڑانے کے لیے جس طرح کے ڈرامے چلائے گئے وہ الگ۔
جس نظام پر اسرائیل نے پہاڑ جتنے اونچے ڈالرز خرچ کر کے دفاعی مینارے بنائے تھے وہ تو پہلے وار میں حماس نے چور چورکردیے تھے لیکن بعد کی کہانی اب بھی خون کی سیاہی سے لکھی جا رہی ہے۔
آج غزہ کے علاقوں میں بربادی، تباہی اور وحشتیں رو رو کر دنیائے عالم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتی ہیں لیکن آج ہماری ان تک رسائی مشکل ہو رہی ہے، تین سال پہلے شروع ہونے والی سات ستمبر 2023 کی گوریلا وار، امریکا کی مداخلت سے جنگ بندی تک کی بات ہوئی بھی تو جھوٹا فسانہ، جھوٹی کہانی۔
لوگ خوش ہوئے، شادیانے بجے شکرانے ادا کیے، یہ بہت قلیل مدت تک کے لیے کہ یہ فلم کے پردے کی عمر سے بھی کم ثابت ہوا اور پھر سے وہی بمباری، آتشیں ہتھیار، گرفتاری اور تشدد جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
دنیا میں واویلا مچا تو فلم کی کہانی میں ذرا سکوت آیا اور پھر وہی بھونچال، وہی بربادی۔ کون ہے پوچھنے والا، ان کا گریبان پکڑنے والا کہ یہ کیسی جنگ بندی تھی؟
اسرائیلی فوج کے ترجمان نادو شوشانی کا غزہ پر ظلم و ستم کے عذاب کے بارے میں کہنا تو یہ ہے کہ ’’ مقصد دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے۔‘‘ حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اب تک اڑسٹھ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ (یہ گنتی اکتوبر کے مہینے کی ہے۔)
اسرائیلی اس بدترین دہشت گردی کو انجام دینے کے باوجود اب بھی حماس کے وجود سے خائف ہیں انھیں نفسیاتی طور پر حماس کا خوف سوار ہے جب کہ جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق حماس کے ہتھیار ڈالنے کے حوالے سے بھی انھیں شکوک ہیں اور لگتا ہے کہ ان کا شک اب عام عوام کی جان سے کھیلتا نظر آ رہا ہے۔
یہ بھی درست ہے کہ حماس نے ایک طویل عرصہ فلسطین کے حوالے سے اقتدار پر اپنی گرفت رکھی لیکن محسوس یہ ہو رہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی کوشش حماس اور عام فلسطینی شہری کو دو پارٹیوں میں بانٹنے کی ہے تاکہ شکوک کا فائدہ اٹھا کر قتل و غارت گری کرکے انسانی نفوس کا بوجھ کم کرے، اس تصویر کا تکلیف دہ رخ یہ بھی ہے کہ حماس کی اندرونی سیاست بھی وہاں کے عوام کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے۔
ایک جانب اسرائیلی افواج حماس کی تلاش میں عام فلسطینی شہریوں کو بھنبھوڑ رہی ہے، ان کے گھر برباد کر رہی ہے تو دوسری جانب حماس اپنے ناپسندیدہ اور مخالف لوگوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ مجموعی صورت حال جو بھی ہو لیکن مظلوم کے حق میں برا ہی ہو رہا ہے۔ ان کی جان و مال دونوں خطرے میں گھری ہے۔
حماس اس وقت اسماعیل ہنیہ جیسے مضبوط رہنما کی کمی کا بری طرح شکار ہے، صرف یہی نہیں بلکہ ان کے بعد یحییٰ ابراہیم السنوار اور پھر صالح العاروری بھی اس دنیا سے چلے گئے۔
ایک کے بعد ایک مضبوط اعصاب کے مالک اور فیصلہ کن صلاحیت کے مالک رہنماؤں کی کمی نے حماس میں اضطراری سی صورت حال پیدا کر دی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف افواہوں کا بھی ایک بازار سرگرم ہے۔
انھیں ظالم اور اپنے ہی لوگوں کو مارنے کے حوالے سے ڈرایا اور دھمکایا جا رہا ہے یا کوشش کی جا رہی ہے کہ اہم اور بڑے رہنماؤں کی غیر موجودگی میں انھیں بے عمل کر کے دھکیل دیا جائے تاکہ فلسطین کی سرزمین دبے سہمے سہاروں سے بھی آزاد ہو جائے اور اکثریت کو اقلیت ڈکلیئر کر کے نیتن یاہو اور ان کے حواریوں کو مطمئن کیا جاسکے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح فلسطین ایک آزاد ریاست کا خواب بھول جائے گا؟ تو اس کا جواب ہے کہ ہرگز نہیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں آزادی کی تحریکیں چلتی رہی ہیں اور آیندہ آنے والے سالوں میں بھی امکان ہے کہ یہ تحریک نئے انداز سے مزید ابھرکر سامنے آئے گی۔
حال ہی میں ایک 153 فلسطینیوں سے بھرا ایک جہاز غزہ سے لے کر جوہانسبرگ جا پہنچا، یہ جہاز غزہ سے نکلنے والے فلسطینیوں پر مشتمل تھا یہ ساری کہانی اس وقت مزید پراسرار ہوتی ہے جب پتا چلتا ہے کہ ان تمام مسافروں کی سفری دستاویز نامکمل ثابت ہوتی ہیں۔
ان کے پاسپورٹ پر ملک چھوڑنے کی ضروری مہم نہیں تھی۔ خبر یہ بھی ہے کہ کسی تھرڈ کنٹری کی خصوصی اجازت کے بعد غزہ سے نکلنے کی اجازت دی گئی، اب یہ تیسرا ملک کون سا ہے؟
اس بارے میں ابہام پایا جاتا ہے صرف یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہ وہ فلسطینی کس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں؟ بہرکیف ایک جنگ زدہ ملک کے شہری ہمدردی اور رحم کے مستحق ہیں۔ ان مسافروں میں سے اکثر کو جنوبی افریقہ میں داخلے کی اجازت دے دی گئی جب کہ کچھ دیگر ممالک کی جانب سفر کر گئے۔
فلسطین کی حالت اس انداز پر بدترین کی جا رہی ہے، رہے سہے حوصلے بھی بکھرتے ہی جا رہے ہیں۔ حالیہ جنگ بندی کی باتوں، دعوؤں سے پہلے دنیا ان کے حق میں چیخ رہی تھی، احتجاج ہو رہے تھے لیکن اب جنگ بندی کے نعرے تو لگے پر پھر وہی خون کی ہولی، لیکن اب تو بولنے والے، احتجاج کرنے والے بھی چپ ہو گئے ہیں یا شاید تھک گئے ہیں۔
سوشل میڈیا اور نیوز چینل پر بھی ان کی خبروں کے سلسلے تھم سے گئے ہیں کہ اب تباہ شدہ ملبے کی تصاویر اور وڈیو بھی شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہے، ایک خاموش خون سے لکھی کہانی چل رہی ہے لوگ تڑپ رہے ہیں، بھوک سے بلبلا رہے ہیں، سیاست بھی چل رہی ہے، وقت گزر رہا ہے، زندگی روتی سسکتی گزر رہی ہے، نجانے کب تک۔۔۔۔ خدا جانے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور پھر کے لیے رہی ہے رہا ہے یہ بھی
پڑھیں:
رفح میں فلسطینی مجاہدین کے خلاف صہیونی درندگی کا مقصد جنگ بندی کو سبوتاژ کرنا ہے، حماس
بیان کے اختتام پر غزہ کی سلامتی سروس نے شہریوں اور تمام حامیانِ مقاومت کو خبردار کیا کہ صہیونی میڈیا کے کسی مواد کو شیئر نہ کریں، کیونکہ یہ سب ایک منظم نفسیاتی مہم کا حصہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطینی اسلامی مزاحمت حماس نے کہا ہے کہ صہیونی دشمن بین الاقوامی فریقوں اور ثالثوں کی تمام کوششوں کو ناکام بنا رہا ہے اور رفح میں فلسطینی مجاہدین کے خلاف اس کے وحشیانہ اقدامات جنگ بندی کے معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے منصوبے کا حصہ ہیں۔تسنیم نیوز ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے مطابق، فلسطینی تحریک حماس نے ایک بیان میں صہیونی قابض فوج کی جانب سے رفح کے شہر میں محاصرے میں پھنسے فلسطینی مجاہدین کا تعاقب، انہیں نشانہ بنانا اور گرفتار کرنا جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور زور دیا کہ یہ جارحانہ اقدامات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ قابض قوتیں جنگ بندی کو کمزور کرنے اور اس کا خاتمہ کرنے کی مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں۔ حماس نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران تنظیم نے مختلف ممالک کے سیاسی رہنماؤں اور ثالثوں کے ساتھ وسیع مذاکرات کیے تاکہ رفح میں محصور فلسطینی مجاہدین کے مسئلے کو حل کیا جائے اور انہیں اپنے گھروں تک واپس لایا جائے۔ حماس کے مطابق، اس سلسلے میں مخصوص تجاویز اور عملی طریقہ کار بھی پیش کیے گئے تھے، اور امریکہ — جو جنگ بندی کا ضامن ہے، ان کے ساتھ بھی مسلسل رابطہ تھا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے باوجود صہیونی قابض حکومت نے تمام کوششوں کو سبوتاژ کیا اور قتل و غارت، تعاقب اور گرفتاری کی اپنی پالیسی جاری رکھی۔ یہ طرزِ عمل اُن ثالثوں کی تمام کوششوں کی ناکامی کی علامت ہے جنہوں نے رفح میں محصور بہادر مجاہدین کی تکالیف ختم کرنے کے لیے وسیع کوششیں کی تھیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ان مجاہدین کی جان کی مکمل ذمہ داری قابض اسرائیلی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے، اور ثالثوں کو چاہیے کہ وہ صہیونی حکومت پر فوری اور سنجیدہ دباؤ ڈالیں تاکہ ہمارے فرزندوں کو اپنے گھروں کو لوٹنے کی اجازت دی جائے۔ حماس نے کہا کہ یہ مجاہدین قربانی، بہادری، استقامت اور فلسطینی قوم کی عزت و آزادی کی بے مثال علامت ہیں۔ دوسری جانب، غزہ میں مزاحمت کی سلامتی سروس نے گزشتہ شب ایک بیان میں خبردار کیا کہ قابض صہیونی انتظامیہ رفح میں فلسطینی مجاہدین کی گمراہ کن اور منتخب کردہ تصاویر پھیلا کر نفسیاتی جنگ چلا رہی ہے، تاکہ جعلی کامیابی کا تاثر پیدا کیا جائے اور اپنی زمینی اور انٹیلی جنس ناکامیوں پر پردہ ڈالا جائے۔ سلامتی سروس نے مزید کہا کہ صہیونیوں کی جانب سے میڈیا پروپیگنڈے اور نفسیاتی جنگ کا سہارا لینا ان کی سلامتی ایجنسیوں کی شدید الجھن کی عکاسی کرتا ہے، اور اسرائیلی بیانیے اور رفح کی زمینی حقیقتوں میں واضح تضاد ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ قابض طاقتوں کے اس دعوے کے باوجود کہ انہوں نے میدان پر وسیع کنٹرول حاصل کر لیا ہے، وہ نہ ہمارے مجاہدین کی تعداد جان سکے ہیں، نہ ان کے ٹھکانوں تک پہنچ سکے ہیں—جو اسرائیل کی کھلی انٹیلی جنس اور عملی میدان کی ناکامی ہے۔ مجاہدین کی ثابت قدمی اور ان کا پسپائی یا ہتھیار ڈالنے سے انکار کرنا اسرائیلی انٹیلی جنس کو براہِ راست نقصان پہنچا رہا ہے۔ سلامتی سروس نے یہ بھی بتایا کہ صہیونی فوج نے خوراک کی ضرورت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مجاہدین کو جھانسہ دینے یا نشانہ بنانے کی کوشش کی، جو اسرائیلی فوج کی اخلاقی و عملی دیوالیہ پن کا ایک اور ثبوت ہے۔ مزید کہا گیا کہ صہیونیوں کی جانب سے جاری کی جانے والی تصاویر حقیقی میدان کی صورتحال کی عکاسی نہیں کرتیں، بلکہ اس مقصد سے پھیلائی جا رہی ہیں کہ وہ اپنی اس ناکامی پر پردہ ڈال سکیں کہ وہ ان محصور مجاہدین تک نہیں پہنچ سکے جو بغیر غذا یا دوا کے بھی استقامت دکھا رہے ہیں۔ بیان کے اختتام پر غزہ کی سلامتی سروس نے شہریوں اور تمام حامیانِ مقاومت کو خبردار کیا کہ صہیونی میڈیا کے کسی مواد کو شیئر نہ کریں، کیونکہ یہ سب ایک منظم نفسیاتی مہم کا حصہ ہے جس کا ہدف فلسطینی داخلی محاذ ہے اور جس کے ذریعے قابض قوتیں غزہ کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں۔