حکومتی اتحاد کے ایم این ایز کیلیے 43 ارب کے ترقیاتی فنڈز جاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
حکومت نے پائیدار ترقیاتی اہداف پروگرام (SAP) کے تحت قومی اسمبلی کے حکومتی بینچوں سے تعلق رکھنے والے ارکانِ پارلیمنٹ کو 43 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری کر دیے ہیں،جن کے ذریعے رواں مالی سال 2025-26 میں چھوٹے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق اسٹیئرنگ کمیٹی کی سربراہی نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈارکرتے ہیں، ہر ایم این اے کیلیے 25 کروڑ روپے کی منظوری دی۔
یہ 43 ارب روپے، 50 ارب کے اْس پیکج کاحصہ ہیں، جسے اگست میں منظورکیاگیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس رقم کا سب سے بڑاحصہ پنجاب کو ملا ہے،جہاں 23.
آئی ایم ایف کی حالیہ گورننس وکرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ نے صوابدیدی فنڈز پر شدیدتحفظات کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ یہ فنڈز حکومتی یابااثر بیوروکریسی کے زیرِ اثرحلقوں تک ہی محدود رہتے ہیں، جبکہ بجٹ کے نفاذ میں شفافیت اور پارلیمانی نگرانی محدود ہے۔
ذرائع کے مطابق سندھ کے ارکانِ قومی اسمبلی کیلیے 15.3 ارب روپے مختص کیے گئے ،جن میں سے 10.9 ارب صوبائی حکومت اور 4.3 ارب پاکستان انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی کے ذریعے خرچ کیے جائیں گے۔
خیبر پختونخواکوصرف 1.3 ارب روپے ملے ہیں، بلوچستان کیلیے 2.3 ارب جاری کیے گئے ،جبکہ وفاقی دارالحکومت کے تین حلقوں کیلیے 75 کروڑ مختص کیے گئے ہیں۔
فنڈزکی شفافیت اور مؤثر نگرانی کے حوالے سے تحفظات برقرار ہیں،کیونکہ یہ اسکیمیں معمول کے جانچ پڑتال کے مراحل سے نہیں گزرتی ہیں۔
اسٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلے کے بعد یہ فنڈزکابینہ ڈویژن کے ذریعے متعلقہ صوبائی اداروں کومنتقل کیے جارہے،جبکہ پلاننگ کمیشن پوری رقم ایک ہی قسط میں جاری کرتاہے۔
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ارب روپے
پڑھیں:
ای چالان: نوٹیفکیشن کیلیے قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کا انکشاف
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)شہر قائد میں ای چالان کے اجرا کیلیے جاری نوٹیفکیشن کیلیے قانونی تقاضے پورے نہ کیے جانے کا انکشاف سامنے آگیا۔سندھ ہائیکورٹ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالان کے اجرا اور موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔عدالت نے درخواست کو اسی نوعیت کی دیگر درخواستوں کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کیا اور ان سے جواب طلب کر لیا۔دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے انکشاف کیا کہ ای چالان کے اجرا کیلیے جاری نوٹیفکیشن کیلیے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، ابھی تک 2023 کا نوٹیفکیشن ہی قابل عمل ہے۔درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ شہر میں سڑکوں کا انفرااسٹرکچر تباہ حال اور ٹریفک سگنلز بھی مکمل فعال نہیں ہیں، اب تک 93 ہزار سے زائد ای چالان جاری کیے جا چکے ہیں، سندھ پرنٹنگ پریس کے مطابق جرمانے کا نوٹیفکیشن ابھی تک گزٹ میں شائع نہیں ہوا۔وکیل کے مطابق نوٹیفکیشن گزٹ میں شائع نہ ہونے سے 2023 کے منظور شدہ جرمانے ہی نافذ ہوں گے، ای چالان کے ذریعے کیے جانے والے بھاری جرمانے غیر قانونی ہیں۔سندھ ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کر دی۔