حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کیلئے آبگاہیں پہلی دفاعی لائن ہیں، پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
سلام آباد:(نیوزڈیسک) حکومتِ پاکستان نے عالمی یومِ آبگاہیں (ورلڈ ویٹ لینڈز ڈے) 2026 کے موقع پر، جو دنیا بھر میں 2 فروری کو منایا جائے گا، آبگاہوں کے تحفظ اور بحالی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہیں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے کم لاگت اور مؤثر قدرتی حل قرار دیا ہے۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی (MoCC&EC) کے مطابق آبگاہوں کی مسلسل تباہی پاکستان کی سیلاب، پانی کی قلت اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان کے خلاف مزاحمت کو شدید طور پر کمزور کر سکتی ہے۔ وزارت نے زور دیا کہ آبگاہوں کو غیر ضروری زمین نہیں بلکہ قومی موسمیاتی انفراسٹرکچر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
اس سال عالمی یومِ آبگاہیں کا موضوع “آبگاہیں اور روایتی علم: ثقافتی ورثے کا جشن” ہے، جو مقامی اور قدیمی علم کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ وزارت کے ترجمان اور موسمیاتی پالیسی کے ماہر محمد سلیم شیخ نے کہا کہ “قدرت اور موسمیات ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ صحت مند آبگاہیں کاربن محفوظ کرتی ہیں، پانی کے بہاؤ کو منظم کرتی ہیں، زیرِ زمین پانی کو ریچارج کرتی ہیں اور سیلابی خطرات کم کرتی ہیں۔”
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 240 سے زائد اہم آبگاہیں موجود ہیں جو ملک کے تقریباً 10 فیصد رقبے پر پھیلی ہوئی ہیں، جن میں 19 رامسر سائٹس بھی شامل ہیں، جیسے سندھ کی کینجھر اور ہالیجی جھیلیں، پنجاب کا چشمہ بیراج اور بلوچستان کے جیوانی ساحلی آبگاہیں۔ یہ ماحولیاتی نظام ماہی گیری، زراعت اور سیاحت کے ساتھ ساتھ آبی پرندوں کی بقا کے لیے بھی نہایت اہم ہیں۔
وزارت نے خبردار کیا کہ پانی کی قلت، آلودگی، تجاوزات، بے ہنگم ترقیاتی سرگرمیاں اور موسمیاتی تبدیلی آبگاہوں کے لیے سنگین خطرات بن چکی ہیں۔ عالمی اداروں کے مطابق دنیا بھر میں آبگاہیں جنگلات کے مقابلے میں تین گنا تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔
محمد سلیم شیخ نے کہا کہ قومی موسمیاتی تبدیلی پالیسی کے تحت آبگاہوں کو سیلابی خطرات میں کمی اور موسمیاتی موافقت کے لیے قدرتی حل کے طور پر شامل کیا جا رہا ہے۔ وزارت مختلف اقدامات پر عمل کر رہی ہے جن میں لیونگ انڈس انیشی ایٹو، ریچارج پاکستان پروگرام اور رامسر کنونشن کے تحت ذمہ داریاں شامل ہیں۔
وزارت نے عوام، پالیسی سازوں اور پارلیمنٹیرینز سے اپیل کی کہ وہ آبگاہوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی، مالی وسائل کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبہ بندی میں ان کے مؤثر انضمام کو یقینی بنائیں، تاکہ پاکستان کا موسمیاتی لحاظ سے محفوظ مستقبل ممکن بنایا جا سکے۔
.