عمر ایوب کا چیف جسٹس کو خط، 9 مئی کے مقدمات میں عدلیہ کے کردار پر سوالات اٹھا دیے
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ کر 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات میں انصاف کے فقدان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عمر ایوب نے اپنے مکتوب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان مقدمات کو انصاف کی بجائے سیاسی انتقام کا رنگ دے دیا گیا ہے، اور عدالتی عمل بدنیتی، عجلت اور دباؤ کے ماحول میں چلایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ سے رجوع کا فیصلہ: 9 مئی مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی قانونی کوششیں تیز
خط میں انہوں نے الزام عائد کیاکہ ریاستی ادارے آئین و قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، بے بنیاد مقدمات، زبردستی کرائے گئے اعترافات اور انتقامی کارروائیاں عدلیہ کی ساکھ کو داؤ پر لگا رہی ہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے عدلیہ پر زور دیا کہ وہ جبر کے خلاف رکاوٹ بنے اور ایسا انصاف مہیا کرے جو نہ صرف ہو بلکہ ہوتا ہوا دکھائی بھی دے۔
خط میں عمر ایوب نے چیف جسٹس سے 6 اہم اصلاحی اقدامات کو فوری طور پر نافذ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ عدالتی رویہ جمہوریت کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے، اور 9 مئی کے کیسز میں قانون کی صریحاً پامالی ہو رہی ہے۔
انہوں نے انسداد دہشتگردی عدالتوں میں رات گئے کارروائیوں کو شفاف ٹرائل کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہاکہ وکلا تک رسائی سے محروم رکھنا آئینی حقوق کے منافی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقدمات کی شفاف رپورٹنگ پر پابندی میڈیا کو سچ دکھانے سے روکنے کے مترادف ہے۔ ان کے بقول عدلیہ کا اصل کردار انصاف کی فراہمی ہے، نا کہ ظلم کا آلہ کار بننا۔
قائد حزب اختلاف نے خط میں مطالبہ کیاکہ پولیس اور پراسیکیوشن کی مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جائیں اور تمام شہریوں کو سیاسی وابستگی سے قطع نظر برابر کا قانونی تحفظ دیا جائے۔
خط کے اختتام پر عمر ایوب نے لکھا کہ عدلیہ ایک تاریخی لمحے سے گزر رہی ہے اور پوری قوم اس کے فیصلوں کی منتظر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے 9 مئی مقدمات کا ٹرائل 4 ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیدیا
ان کا کہنا تھا کہ محض انصاف کا ہونا کافی نہیں، انصاف کا نظر آنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
9 مئی مقدمات wenews پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی جسٹس یحییٰ آفریدی چیف جسٹس پاکستان خط سوالات اٹھا دیے شفاف ٹرائل عمر ایوب عمران خان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 9 مئی مقدمات پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی جسٹس یحیی ا فریدی چیف جسٹس پاکستان سوالات اٹھا دیے شفاف ٹرائل عمر ایوب وی نیوز عمر ایوب چیف جسٹس
پڑھیں:
اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دیدیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے 5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
مزید :