پنجاب میں رات کے درجہ حرارت میں کمی، ہوا کا معیار بھی خراب ہونے لگا
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
لاہور:
پنجاب میں موسم بدلنے لگا جس کے سبب مختلف شہروں میں درجہ حرارت گرنے لگا ہے تاہم ہوا کا معیار بھی خراب ہو رہا ہے۔
پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار اسموگ کی پیشگی اطلاع، تجزیے اور موسمیاتی نگرانی کے جدید نظام نے ڈیٹا جاری کر دیا جس کے مطابق اسموگ کی صورتحال قابو میں ہے۔
موسمی پیشگوئی کے جدید نظام کی مدد سے سردی اور اسموگ کے سیزن میں پیشگی معلومات پہلی بار دستیاب ہوں گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر گزشتہ سال سے بڑھ کر اسموگ سے بچاؤ، احتیاطی تدابیر اور قابو پانے کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کو اسموگ سے بچاؤ کے گرینڈ صوبائی آپریشن کی نگرانی کی ذمہ داری سونپ دی، فضائی آلودگی کے معیار کی مسلسل نگرانی جاری رہے گی۔
بھارت کی طرف ماضی کی طرح چاول کی فصل کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والی اسموگ کی صورتحال تاحال دیکھنے میں نہیں آئی لیکن بھارت کے شمالی پنجاب کے علاقوں میں فصل کی باقیات جلانے سے آلودگی پیدا ہو رہی ہے اور ہوائوں کا رخ بدلنے سے یہ آلودگی اگلے ماہ پاکستان آئے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر تمام متعلقہ وزارتیں اور محکمے گزشتہ سال کی تمام ’’ایس او پیز‘‘ پر سختی سے عمل درآمد کر رہے ہیں۔
لاہور میں ہوا کا معیار 152، قصور میں 144، سیالکوٹ میں 154 اور گجرانوالہ میں 160 ریکارڈ کیا گیا جبکہ فیصل آباد میں ہوا کا معیار 156، ملتان میں 139، بہاولپور میں 115، راولپنڈی میں 114 اور مری میں 48 ریکارڈ کیا گیا۔
ہوا کے کم دباؤ کی وجہ سے موسم کے خشک ہونے اور آلودگی میں کمی کا باعث بن رہا ہے، دن میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 سے 36 اور رات کو 25 سے 26 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
ہواؤں کا رخ شمال سے مشرق کی طرف جاری ہے جبکہ 30 ستمبر کو ہوا کی دو سے چھ میل فی گھنٹہ کی کم رفتار دیکھنے میں آئی۔
پنجاب کے شہروں میں اسموگ سے بچاؤ کے لیے انتظامات کی نگرانی کے لیے ماحولیاتی تحفظ کا ادارہ اور ضلعی انتظامیہ متحرک ہوگئے۔ فصلوں کی باقیات، پلاسٹک جلانے، آلودگی اور دھواں پھیلانے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
کھلے مقامات پر کوڑا جلانے کی پابندی، زیر تعمیر عمارات کا ملبہ ڈھانپنے اور ڈھکن والے کوڑے دان یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ ستھرا پنجاب کی ٹیموں کو بھی پورے پنجاب میں متحرک کر دیا گیا، پانی کے چھڑکاؤ اور صفائی کے انتظامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی گئی۔
پولیس سمیت دیگر اداروں کو بھی اینٹی اسموگ آپریشن میں معاونت کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔
گزشتہ برس وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب کو گرین بنانے اور آلودگی سے پاک کرنے کے لیے ریکارڈ اقدامات کیے۔ موسمی پیشگوئی کے جدید نظام اور طریقوں کو لاگو کیا گیا۔
جدید ٹیکنالوجی، جدید زرعی مشینری اور آلودگی پر قابو پانے کی فورس کی تشکیل سے پنجاب ماحولیاتی شعبے میں لیڈ کر رہا ہے۔ پنجاب میں جدید ٹیکنالوجی کے حامل ہوا کے معیار کو جانچنے والے پہلی دفعہ 43 آلات نصب اور اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہوا کا معیار کیا گیا
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔