بھارتی میڈیا میں پچھلے چند دنوں سے یہ دعویٰ زور پکڑتا رہا کہ پاکستان نے بالی ووڈ کے سپر اسٹار سلمان خان کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ تاہم، پاکستانی ذرائع کے مطابق یہ دعویٰ بلا بنیاد اور جعلی نوٹیفکیشن پر مبنی ہے۔
یہ افواہ اس وقت پھیلی جب سلمان خان نے سعودی عرب کے شہر ریاض میں ہونے والے “جوائے فورم 2025میں گفتگو کے دوران بلوچستان کا حوالہ دیا تھا۔ بھارتی میڈیا نے ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے انہیں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے فورتھ شیڈول میں شامل کر لیا ہے۔
ان رپورٹس کے مطابق، ایک مبینہ سرکاری نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر گردش کرتا رہا، جس میں سلمان خان کو “آزاد بلوچستان کے حمایتی” کے طور پر فورتھ شیڈول میں شامل دکھایا گیا۔ تاہم، جب پاکستانی میڈیا اداروں نے اس دستاویز کا تجزیہ کیا تو اس میں کئی سنگین تضادات سامنے آئے۔
تحقیقات میں معلوم ہوا کہ نوٹیفکیشن کا اجرا نمبر بالکل وہی تھا جو محکمہ داخلہ بلوچستان کی ایک پرانی اور تصدیق شدہ دستاویز پر موجود تھا۔ اس کے علاوہ، جعلی نوٹیفکیشن کی تاریخ 16 اکتوبر درج تھی، جبکہ سلمان خان نے جوائے فورم میں 17 اکتوبر کو شرکت کی تھی — یعنی دستاویز اس سے پہلے ہی “جاری” دکھائی گئی۔
مزید برآں، نوٹیفکیشن کا فارمیٹ، فونٹس، الائنمنٹ، ولدیت کا خانہ، اور شناختی کارڈ نمبر پاکستانی سرکاری معیار سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ لفظ “بلوچستان” کے ہجے بھی غلط لکھے گئے تھے۔ سب سے واضح ثبوت وہی نقل شدہ دستخط تھے جو ایک اصل سرکاری دستاویز سے ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کے ذریعے اٹھائے گئے تھے۔
پاکستانی انٹیلی جنس ذرائع اور محکمہ داخلہ بلوچستان نے وضاحت کی کہ ایسا کوئی نوٹیفکیشن کبھی جاری نہیں ہوا، اور یہ خبر مکمل طور پر جعلی ہے۔
دوسری جانب، سلمان خان کے بیان میں دراصل کوئی متنازع بات موجود نہیں تھی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں صرف یہ کہا تھا:یہاں بلوچستان، افغانستان اور پاکستان سے لوگ کام کر رہے ہیں، اسی لیے فلمیں فوراً کامیاب ہو جاتی ہیں۔یعنی انہوں نے مختلف ممالک کے فنکاروں کے تعاون کی تعریف کی تھی، لیکن بھارتی میڈیا نے ان کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور ایک جھوٹا پروپیگنڈا کھڑا کر دیا۔نتیجتاً، یہ واضح ہو گیا کہ سلمان خان کو دہشت گرد قرار دینے کا دعویٰ بے بنیاد، گمراہ کن اور من گھڑت ہے، جسے جعلی دستاویز کے ذریعے پھیلایا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بھارتی میڈیا سلمان خان کو

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے