ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے تیار ہے لیکن یہ مذاکرات منصفانہ ہوں اور ان میں ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو شامل نہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے خلاف کارروائی کے لیے امریکی فوج تیار، سیکریٹری آف وار کا انتباہ

جمعے کو ترکیہ کے وزیر خارجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران عباس عراقچی نے کہا کہ اگر مذاکرات منصفانہ اور مساوی بنیادوں پر ہوں تو ایران ان میں شرکت کے لیے تیار ہے تاہم انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان فی الحال کسی قسم کے مذاکرات طے نہیں پائے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کی طاقتیں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہی ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ ایران سے بات چیت کا ارادہ رکھتے ہیں حالانکہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگی جہاز بھی تعینات کر دیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع کے مطابق امریکی فوج صدر کے کسی بھی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے تیار ہے۔

مزید پڑھیے: ایران اور امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا مذاکرات اور سفارت کاری پر زور

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے لیے ایران کے میزائل پروگرام کو محدود کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاہم ایران اس مطالبے کو مسترد کر چکا ہے۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت خطے کے اتحادی ممالک امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور فوجی تصادم سے بچاؤ کے لیے سفارتی سطح پر متحرک ہیں۔

’مذاکرات اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہیں‘

امریکی جانب سے فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے جواب میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے اور اگر ضرورت پڑی تو جنگ کے لیے بھی۔

مزید پڑھیں: ایران پر ممکنہ حملہ: امریکا نے پاکستان میں موجود امریکی شہریوں کو الرٹ کردیا

انہوں نے ترکیہ کے وزیر خارجہ حکان فدان کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو اچھی اور مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر استحکام اور امن کے فروغ کے لیے بات چیت پر آمادہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران ایران امریکا مذاکرات ایران کی دفاعی صلاحیتیں ایران کے دفاعی امور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایران ایران امریکا مذاکرات ایران کے دفاعی امور عباس عراقچی نے کہا کے لیے تیار ایران کے کہ ایران تیار ہے کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان