data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکا میں ایران کی سیاسی قیادت کے مستقبل سے متعلق بحث ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں پہلی مرتبہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بعد اقتدار کی ممکنہ صورتحال پر امریکی سینیٹ میں کھلے انداز میں سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل متعدد مواقع پر ایران میں قیادت کی تبدیلی کا عندیہ دے چکے ہیں، تاہم حالیہ پیش رفت میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیانات نے اس معاملے کی پیچیدگی کو مزید واضح کر دیا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی کے اجلاس کے دوران مارکو روبیو سے سوال کیا گیا کہ اگر خامنہ ای کی حکومت ختم ہوتی ہے تو ایران میں اقتدار کس کے ہاتھ میں آئے گا اور امریکا اس صورتحال کے لیے کس حد تک تیار ہے۔

اس پر امریکی وزیر خارجہ نے ایک غیر معمولی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی سادہ یا فوری عمل نہیں، جسے کسی مشین میں ڈال کر چند منٹ میں نتیجہ حاصل کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا سیاسی اور سماجی ڈھانچہ نہایت پیچیدہ ہے اور اس حوالے سے کسی کے پاس کوئی فوری یا قطعی جواب موجود نہیں۔

مارکو روبیو نے مزید کہا کہ خامنہ ای کے بعد ایران میں کیا ہوگا، اس بارے میں قیاس آرائیاں ضرور کی جا سکتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی بڑی تبدیلیاں وقت لیتی ہیں اور ان کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس بات سے آگاہ ہے کہ ایران میں طاقت کے مراکز، ادارے اور سیاسی دھڑے کس قدر مضبوط ہیں، اس لیے کسی ایک نتیجے پر پہنچنا دانشمندانہ نہیں ہوگا۔

امریکی وزیر خارجہ نے ایرانی دھمکیوں کے تناظر میں یہ بھی کہا کہ امریکا خطے میں موجود اپنے ہزاروں اہلکاروں اور فوجی تنصیبات کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر ایران کی جانب سے کسی قسم کی جارحیت کی کوشش کی گئی تو امریکا پیشگی اقدامات کے ذریعے اپنے مفادات کا دفاع کرے گا، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ حالات اس نہج تک نہیں پہنچیں گے۔

واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی کا آپشن بھی خارج از امکان نہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس جون میں امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی بعض جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں ایرانی جوہری صلاحیتوں کو نمایاں نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں قیادت کی تبدیلی سے متعلق امریکی بیانات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران میں خامنہ ای

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران