خوشخبری، سوئی سدرن گیس کا رمضان کیلیے نیا شیڈول، پورے دن میں صرف ساڑھے 4 گھنٹے سپلائی بند ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
سوئی سدرن گیس نے رمضان المبارک کے حوالے سے شیڈول جاری کردیا جس کے مطابق سپلائی دن کے 24 گھنٹوں میں سے صرف ساڑھے چار گھنٹے بند رہے گی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سوئی گیس نے سحر و افطار کے وقت گھریلو صارفین کو پریشر کے ساتھ گیس فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ایس ایس جی سی ترجمان کے مطابق رمضان المبارک میں صارفین کی سہولت کیلیے سحری سے قبل رات تین بجے سے اگلی رات ساڑھے 10 بجے تک مسلسل گیس فراہم کی جائے گی۔
اسی طرح رات ساڑھے 10 بجے سے 3 بجے تک سپلائی معطل رہے گی۔
ترجمان نے کہا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی سحری اور افطاری کی تیاریوں کے لیے گیس کے بہترین پریشر کو یقینی بنائے گی تاکہ صارفین کو بالخصوص سحری اور افطاری میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔
ترجمان نے بتایا کہ ملکی ذخائر میں ہر سال گیس کے ذخائر میں 10 فیصد تک کمی کے باوجود حکومت نے رمضان المبارک کے دوران کمپنی کو اضافی گیس فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی جس کے باعث صارفین کو سہولت دی گئی ہے۔
مرکزی ترجمان سلمان احمد صدیقی نے کہا کہ گیس فراہمی کے دوران اگر صارفین کو پریشر کی کمی یا فراہمی نہ ہونے کی شکایت ہو تو وہ ہیلپ لائن 1199، موبائل ایپ یا قریبی کسٹمر فیسلٹیشن سینٹر پر شکایت درج کروائیں جس کا فوری ازالہ کیا جائے گا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ کمپریسر سے گیس کا استعمال قانونا جرم اور غیر اخلاقی عمل ہے جس کی وجہ سے پڑوسیوں کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، اگر ایسا کوئی بھی شخص نظر میں ہو تو اُس کی فوری طور پر 1199 پر اطلاع دیں جس پر نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا اورایسے شخص کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جس کے تحت بھاری جرمانہ، قید اور طویل عرصے کیلیے گیس کنکشن کی معطلی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: صارفین کو
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔