کیا پی ٹی آئی واقعی عمران خان کی رہائی چاہتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
پاکستان تحریکِ انصاف اور حکومت کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز تو نہیں ہوا، تاہم وزیراعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کی ملاقات کی خبریں سامنے آ رہی تھیں، یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ عمران خان سے جیل میں ملاقاتوں کا رکا ہوا سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے گا۔
تاہم عمران خان کی آنکھوں کی بینائی متاثر ہونے کی خبروں کے بعد پی ٹی آئی کے اراکینِ پارلیمنٹ نے 5 روز تک دھرنا دیا، جبکہ کارکنان نے موٹروے اور جی ٹی روڈ پر بھی احتجاج جاری رکھا، اس کے باوجود نہ تو عمران خان سے ملاقات ہو سکی اور نہ ہی انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
اب پی ٹی آئی نے دھرنا ختم کر دیا ہے اور ’فری عمران خان فورس‘ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے، اس معاملے پر پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہرعلی خان، جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ اور سینیئر رہنما علی محمد خان نے وی نیوز سے گفتگو کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں واضح بہتری، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ جاری
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بینائی متاثر ہونے پر پارٹی شدید تشویش میں مبتلا ہے۔
’پی ٹی آئی کا بنیادی مطالبہ ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جائے، جہاں ان کے ذاتی معالج، پارٹی کے ڈاکٹرز اور اہلِ خانہ کی موجودگی میں ان کا مکمل طبی معائنہ اور نگرانی ہو سکے۔‘
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی اسپتال منتقلی اور ملاقاتوں کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی گئی، البتہ بعض نمائندگان کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات ضرور جاری رہے، جن میں کچھ افراد نے مثبت کردار ادا کیا۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق خبروں پر پی ٹی آئی کا اظہار تشویش
بیرسٹر گوہر کے مطابق پی ٹی آئی آئندہ بھی قانونی اور سیاسی فورمز پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اور عمران خان کے حقوق کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں کی اجازت نہ دینا ہی کئی مسائل کی جڑ ہے۔ ’اگر باقاعدہ ملاقاتیں ہوتیں تو پارٹی قیادت کو اصل صورتحال کا علم ہوتا اور غیر ضروری افواہوں کا خاتمہ ممکن ہوتا۔‘
پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان کی رہائی یا ان سے ملاقات کی تحریک کوئی ایک دن یا وقتی کامیابی کی جدوجہد نہیں بلکہ ایک طویل تحریک ہے۔
ان کے مطابق عمران خان کی قید اور صحت کے معاملات پر پورا ملک اضطراب کا شکار ہے اور گزشتہ چند دنوں میں ہونے والے احتجاج کا اثر عالمی سطح تک گیا ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے دھرنوں اور احتجاج کے نتیجے میں بین الاقوامی تنظیموں، سفارت کاروں اور بیرونِ ملک پاکستانیوں تک عمران خان کی صحت سے متعلق پیغام پہنچا۔
ان کے بقول کرکٹ کی دنیا میں بھی اس معاملے پر ہلچل محسوس کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان اب بھی عالمی سطح پر ایک نمایاں شخصیت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کی تحریک کسی صورت پیچھے ہٹنے والی نہیں اور پارٹی کارکنان، بالخصوص خواتین، جس خلوص اور جذبے کے ساتھ میدان میں موجود ہیں، وہ اس جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف درحقیقت مذاکرات نہیں چاہتی، حالانکہ حکومت مفاہمت اور بات چیت کے لیے تیار تھی۔
ان کے مطابق حکومت کی خواہش تھی کہ پی ٹی آئی کو سیاسی دھارے میں رکھا جائے اور معاملات بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں، کیونکہ پی ٹی آئی کا ملک میں ووٹ بینک موجود ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ عمران خان جس ڈیل کی امید لگائے بیٹھے ہیں وہ ممکن نہیں اور جب تک قومی مفاد کو ذاتی سیاست پر ترجیح نہیں دی جاتی، کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ سیاست کسی نظریے یا عوامی مفادات پر مبنی نہیں بلکہ ایک محدود اور ذاتی ایجنڈے کے گرد گھوم رہی ہے، جس کا واحد مقصد عمران خان کی رہائی اور دوبارہ اقتدار میں واپسی ہے۔
ان کے مطابق جب کسی جماعت کا ایجنڈا اتنا محدود ہو جائے تو اس کی سیاست دیرپا نہیں رہتی۔
’پی ٹی آئی کی سیاست مسلسل محاذ آرائی پر مبنی رہی ہے اور مستقبل میں بھی کسی مثبت نتیجے کی امید کم نظر آتی ہے۔‘
پی ٹی آئی کے سینئر رہنما علی محمد خان نے اعتراف کیا کہ ایک موقع ایسا ضرور تھا جب کم از کم عمران خان سے ملاقات یا کسی حد تک بات چیت کا راستہ بن رہا تھا، جو بند نہیں ہونا چاہیے تھا۔
تاہم انہوں نے کہا کہ مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ سیاست امکانات کا کھیل ہے اور ناممکن کو ممکن بنانا ہی اصل سیاست ہے۔
ان کے مطابق اب بھی امید باقی ہے، سمجھدار لوگ موجود ہیں اور اگر نیت ہو تو راستہ نکل سکتا ہے۔
علی محمد خان نے کہا کہ پارٹی آج بھی سپریم کورٹ میں موجود ہے اور عدالتی عمل پر یقین رکھتی ہے۔
ان کے مطابق سپریم کورٹ کسی ایک فریق کی نہیں بلکہ آئینی اور قانونی تقاضوں کے تحت فیصلے کرتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر عمران خان نے پارٹی قیادت، خواہ وہ چیئرمین ہو، جنرل سیکریٹری یا اپوزیشن لیڈر، پر اعتماد کیا ہے تو کارکنان اور عوام کو بھی اسی اعتماد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق اس وقت سب سے اہم چیز عمران خان کی خیریت اور صحت ہے، اور قیادت کی ذمہ داری ہے کہ اس حوالے سے درست معلومات عوام تک پہنچائی جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی سپریم کورٹ سلمان اکرم راجہ سینیٹر افنان اللہ خان علی محمد خان عمران خان محاذ آرائی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی سپریم کورٹ سلمان اکرم راجہ سینیٹر افنان اللہ خان علی محمد خان عمران خان کی رہائی سلمان اکرم راجہ کہ عمران خان کی علی محمد خان پی ٹی آئی کے کہ پی ٹی آئی ان کے مطابق نے کہا کہ انہوں نے کے لیے ہے اور تھا کہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔