WE News:
2026-06-02@22:10:47 GMT

کیا پی ٹی آئی واقعی عمران خان کی رہائی چاہتی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

کیا پی ٹی آئی واقعی عمران خان کی رہائی چاہتی ہے؟

پاکستان تحریکِ انصاف اور حکومت کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز تو نہیں ہوا، تاہم وزیراعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کی ملاقات کی خبریں سامنے آ رہی تھیں، یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ عمران خان سے جیل میں ملاقاتوں کا رکا ہوا سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے گا۔

تاہم عمران خان کی آنکھوں کی بینائی متاثر ہونے کی خبروں کے بعد پی ٹی آئی کے اراکینِ پارلیمنٹ نے 5 روز تک دھرنا دیا، جبکہ کارکنان نے موٹروے اور جی ٹی روڈ پر بھی احتجاج جاری رکھا، اس کے باوجود نہ تو عمران خان سے ملاقات ہو سکی اور نہ ہی انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔

اب پی ٹی آئی نے دھرنا ختم کر دیا ہے اور ’فری عمران خان فورس‘ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے، اس معاملے پر پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہرعلی خان، جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ اور سینیئر رہنما علی محمد خان نے وی نیوز سے گفتگو کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں واضح بہتری، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ جاری

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بینائی متاثر ہونے پر پارٹی شدید تشویش میں مبتلا ہے۔

’پی ٹی آئی کا بنیادی مطالبہ ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جائے، جہاں ان کے ذاتی معالج، پارٹی کے ڈاکٹرز اور اہلِ خانہ کی موجودگی میں ان کا مکمل طبی معائنہ اور نگرانی ہو سکے۔‘

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی اسپتال منتقلی اور ملاقاتوں کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی گئی، البتہ بعض نمائندگان کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات ضرور جاری رہے، جن میں کچھ افراد نے مثبت کردار ادا کیا۔

مزید پڑھیں: عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق خبروں پر پی ٹی آئی کا اظہار تشویش

بیرسٹر گوہر کے مطابق پی ٹی آئی آئندہ بھی قانونی اور سیاسی فورمز پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اور عمران خان کے حقوق کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں کی اجازت نہ دینا ہی کئی مسائل کی جڑ ہے۔ ’اگر باقاعدہ ملاقاتیں ہوتیں تو پارٹی قیادت کو اصل صورتحال کا علم ہوتا اور غیر ضروری افواہوں کا خاتمہ ممکن ہوتا۔‘

پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان کی رہائی یا ان سے ملاقات کی تحریک کوئی ایک دن یا وقتی کامیابی کی جدوجہد نہیں بلکہ ایک طویل تحریک ہے۔

ان کے مطابق عمران خان کی قید اور صحت کے معاملات پر پورا ملک اضطراب کا شکار ہے اور گزشتہ چند دنوں میں ہونے والے احتجاج کا اثر عالمی سطح تک گیا ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے دھرنوں اور احتجاج کے نتیجے میں بین الاقوامی تنظیموں، سفارت کاروں اور بیرونِ ملک پاکستانیوں تک عمران خان کی صحت سے متعلق پیغام پہنچا۔

ان کے بقول کرکٹ کی دنیا میں بھی اس معاملے پر ہلچل محسوس کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان اب بھی عالمی سطح پر ایک نمایاں شخصیت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کی تحریک کسی صورت پیچھے ہٹنے والی نہیں اور پارٹی کارکنان، بالخصوص خواتین، جس خلوص اور جذبے کے ساتھ میدان میں موجود ہیں، وہ اس جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف درحقیقت مذاکرات نہیں چاہتی، حالانکہ حکومت مفاہمت اور بات چیت کے لیے تیار تھی۔

ان کے مطابق حکومت کی خواہش تھی کہ پی ٹی آئی کو سیاسی دھارے میں رکھا جائے اور معاملات بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں، کیونکہ پی ٹی آئی کا ملک میں ووٹ بینک موجود ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ عمران خان جس ڈیل کی امید لگائے بیٹھے ہیں وہ ممکن نہیں اور جب تک قومی مفاد کو ذاتی سیاست پر ترجیح نہیں دی جاتی، کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ سیاست کسی نظریے یا عوامی مفادات پر مبنی نہیں بلکہ ایک محدود اور ذاتی ایجنڈے کے گرد گھوم رہی ہے، جس کا واحد مقصد عمران خان کی رہائی اور دوبارہ اقتدار میں واپسی ہے۔

ان کے مطابق جب کسی جماعت کا ایجنڈا اتنا محدود ہو جائے تو اس کی سیاست دیرپا نہیں رہتی۔

’پی ٹی آئی کی سیاست مسلسل محاذ آرائی پر مبنی رہی ہے اور مستقبل میں بھی کسی مثبت نتیجے کی امید کم نظر آتی ہے۔‘

پی ٹی آئی کے سینئر رہنما علی محمد خان نے اعتراف کیا کہ ایک موقع ایسا ضرور تھا جب کم از کم عمران خان سے ملاقات یا کسی حد تک بات چیت کا راستہ بن رہا تھا، جو بند نہیں ہونا چاہیے تھا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ سیاست امکانات کا کھیل ہے اور ناممکن کو ممکن بنانا ہی اصل سیاست ہے۔

ان کے مطابق اب بھی امید باقی ہے، سمجھدار لوگ موجود ہیں اور اگر نیت ہو تو راستہ نکل سکتا ہے۔

علی محمد خان نے کہا کہ پارٹی آج بھی سپریم کورٹ میں موجود ہے اور عدالتی عمل پر یقین رکھتی ہے۔

ان کے مطابق سپریم کورٹ کسی ایک فریق کی نہیں بلکہ آئینی اور قانونی تقاضوں کے تحت فیصلے کرتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر عمران خان نے پارٹی قیادت، خواہ وہ چیئرمین ہو، جنرل سیکریٹری یا اپوزیشن لیڈر، پر اعتماد کیا ہے تو کارکنان اور عوام کو بھی اسی اعتماد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

ان کے مطابق اس وقت سب سے اہم چیز عمران خان کی خیریت اور صحت ہے، اور قیادت کی ذمہ داری ہے کہ اس حوالے سے درست معلومات عوام تک پہنچائی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ٹی آئی سپریم کورٹ سلمان اکرم راجہ سینیٹر افنان اللہ خان علی محمد خان عمران خان محاذ آرائی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی سپریم کورٹ سلمان اکرم راجہ سینیٹر افنان اللہ خان علی محمد خان عمران خان کی رہائی سلمان اکرم راجہ کہ عمران خان کی علی محمد خان پی ٹی آئی کے کہ پی ٹی آئی ان کے مطابق نے کہا کہ انہوں نے کے لیے ہے اور تھا کہ

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان