26 نومبر احتجاج کیس: بشریٰ بی بی کو گرفتار کرنے سے روک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
بشری بی بی : فائل فوٹو
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی اور 26 نومبر احتجاج کیس میں بشریٰ بی بی کو گرفتارکرنے سے روک دیا۔
بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ کی درخواست ضمانت پر سماعت 24 فروری تک ملتوی کردی گئی۔
علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔
بشریٰ بی بی کیخلاف تھانہ رمنا میں مقدمہ درج ہے۔
دوسری جانب راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کیس میں مسلسل غیر حاضری پر بانئ پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے۔
علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔
عدالت نے علیمہ خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست خارج کرتے ہوئے پولیس کو وارنٹِ گرفتاری پر عمل درآمد کی ہدایت کر دی۔
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ علیمہ خان کے خلاف درج مقدمے میں 2 گواہان پر جرح ہونا باقی ہے، مقدمے میں 16 گواہان پر جرح مکمل ہو چکی ہے۔
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ ملزمہ مسلسل ٹرائل میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نومبر احتجاج کیس علیمہ خان کے شاہ نے
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔