26 نومبر احتجاج کیس: علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
بانئ پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان—فائل فوٹو
راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کیس میں مسلسل غیر حاضری پر بانئ پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے۔
علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔
عدالت نے علیمہ خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست خارج کرتے ہوئے پولیس کو وارنٹِ گرفتاری پر عمل درآمد کی ہدایت کر دی۔
بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کی بھابھی اور بیٹی نے آج ملاقات کی اور بتایا کہ بانی کی آنکھ ٹھیک نہیں ہے۔
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ علیمہ خان کے خلاف درج مقدمے میں 2 گواہان پر جرح ہونا باقی ہے، مقدمے میں 16 گواہان پر جرح مکمل ہو چکی ہے۔
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ ملزمہ مسلسل ٹرائل میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علیمہ خان کے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔