ماہِ صیام کے بابرکت مہینے میں عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، وزیر داخلہ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
احکامات دیتے ہوئے ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و امان کے قیام کے لیے علمائے کرام سے رابطہ مضبوط کیا جائے، افطار پوائنٹس اور دسترخوانوں کی سیکیورٹی کے لیے مقامی پولیس اور رضاکاروں کے ساتھ کوآرڈینیشن کو یقینی بنایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے پولیس حکام سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ماہ رمضان المبارک میں فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے احکامات دیتے ہوئے کہا کہ ماہِ صیام 2026ء کے تینوں عشروں میں فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائی جائے، مساجد، امام بارگاہوں، مزارات، درگاہوں اور تراویح اجتماعات کی خصوصی نگرانی کی جائے۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ افطار و سحر اوقات میں حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی جائے، بڑے تجارتی مراکز، بازاروں اور شاپنگ مالز میں مؤثر سیکیورٹی پلان مرتب کیا جائے، اسنیپ چیکنگ، موبائل گشت اور انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے، کمانڈ اینڈ کنٹرول مانیٹرنگ کے ذریعے سی سی ٹی وی نگرانی موثر بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد و مذہبی اجتماعات کے اطراف واک تھرو گیٹس اور جامع تلاشی نظام یقینی بنایا جائے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و امان کے قیام کے لیے علمائے کرام سے رابطہ مضبوط کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹس اور کاروباری مراکز میں رش کے پیش نظر ٹریفک مینجمنٹ پلان پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے، افطار پوائنٹس اور دسترخوانوں کی سیکیورٹی کے لیے مقامی پولیس اور رضاکاروں کے ساتھ کوآرڈی نیشن کو یقینی بنایا جائے۔ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ خواتین اور فیملیز کی سہولت کے لیے خصوصی گشت اور ہیلپ ڈیسک کا قیام عمل میں لایا جائے، ایمرجنسی رسپانس یونٹس اور ایمبولینس سروس کو الرٹ رکھا جائے، افطار سے قبل اور بعد اہم شاہراہوں پر ٹریفک پولیس کی اضافی نفری، پارکنگ کے متبادل انتظامات کیساتھ ساتھ غیر قانونی پارکنگ کے خلاف کارروائی کی جائے۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ شہریوں کو پیشگی ٹریفک ایڈوائزری سے آگاہ رکھا جائے، ماہِ صیام کے بابرکت مہینے میں عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور کسی بھی غفلت یا کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، پولیس، رینجرز اور متعلقہ اداروں کے باہمی اشتراک سے مربوط اور مثر سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات یقینی بنائے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ نے کہا کہ کیا جائے کے لیے
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔