اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اسلام آباد کی عدالت نے عمران خان کے خلاف چھ کیسز کی سماعت کی، بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیے، عدالت نے 24 فروری کو تمام مقدمات کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے عمران خان کو عدالت یا بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف سابق وزیر شاہنواز رانجھا کو قتل کرنے کی کوشش سمیت دیگر پانچ کیسز کی سماعت ہوئی جس میں سلمان صفدر نے دلائل دے دیے۔

عمران خان کی جانب سے وکیل سلمان صفدر، خالد یوسف چوہدری عدالت میں پیش ہوئے، عمران خان کی تینوں بہنیں بھی کمرہ عدالت میں موجود رہیں، کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے کی۔

عمران خان کی 6 درخواست ضمانتوں پر وکیل سلیمان صفدر نے دلائل دیے اور کہا کہ ماضی میں جب آپ کے پاس پیش ہوا تو ریلیف لے کر گیا تھا، ہم جاگے تو سنا ہے سرکار بھی جاگ گئی ہے، بانی چیئرمین اور بشریٰ بی بی اس عدالت میں پیش ہوئے، توشہ خانہ کا ایک معاملہ اس عدالت میں بھی ہے، 2023ء میں مقدمات کا اندراج کیا گیا تھا، میری ضمانت کے مستقل ہونے کی سب سے بڑی وجہ سوئی ہوئی سرکار ہے۔

سلمان صفدر نے کہا کہ سرکار کی جانب سے کوئی درخواست ہی نہیں دی گئی انٹرم ضمانت میں، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو پیش کیا جائے، اگر یہاں کسی وجہ سے پیش نہیں کر رہے تو اڈیالہ جیل بھی ہے، اگر بانی اور بشریٰ بی بی کو پیش نہیں کیا جاتا تو سپرنٹنڈنٹ جیل پیش ہو۔

انہوں نے کہا کہ ٹینشن ہوتی ہے تو ایک آنکھ کی نظر متاثر ہوتی ہے، جو فیصلہ بنتا ہے وہ عدالت آج دے۔

جج افضل مجوکہ نے کہا کہ مجھے بتایا جائے میری عدالت میں سے کس کی ضمانت خارج ہوئی؟ سلمان صفدر کی جانب سے 4 آپشن دیے گئے ہیں۔

پراسیکیوشن کی جانب سے تاریخ مانگ لی گئی۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ مناسب تاریخ دے دیں ہمیں تیاری کرنی ہے۔

سلمان صفدر نے کہا کہ حکومت کی مقدمات میں دلچسپی نہیں، مقدمات کے تفتیشی افسران بھی یہاں موجود نہیں ہے، کسی تفتیشی افسر نے مقدمات میں شامل تفتیش بھی نہیں کیا۔

عدالت نے 24 فروری کو تمام مقدمات کا ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر عمران خان کو عدالت یا بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔

جج افضل مجوکہ نے کہا کہ آئندہ سماعت پر تمام تفتیشی افسران ریکارڈ سمیت عدالت پیش ہوں۔ بعدازاں عدالت نے کیس کے سماعت 24 فروری تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف 9 مئی، اقدام قتل، جعلی رسیدوں سمیت مقدمات درج پیں، بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ جعلی رسیدوں پر ایک مقدمہ درج ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی جانب سے عدالت میں نے کہا کہ کی سماعت عدالت نے کے خلاف

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم