WE News:
2026-07-24@11:53:21 GMT

کیا کوئی ملک خریدا جا سکتا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

کیا کوئی ملک خریدا جا سکتا ہے؟

حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ کو خریدنے کی بات کی تو یورپ میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ کئی لوگوں نے اسے پرانے زمانے کی سامراجی سوچ قرار دیا۔ لیکن تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکا صرف جنگوں کے ذریعے نہیں، بلکہ زمین خرید کر بھی پھیلا ہے۔ 2 صدیوں سے زیادہ عرصے میں امریکا نے کئی بڑے علاقے رقم دے کر حاصل کیے۔

لوزیانا: سب سے بڑی خریداری

انیسویں صدی کے آغاز میں فرانس کے پاس ایک بہت بڑا علاقہ تھا جسے لوزیانا کہا جاتا تھا۔ یہ علاقہ آج کے کئی امریکی ریاستوں پر مشتمل تھا۔ اس وقت فرانس اس خطے پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتا تھا اور اسے سنبھالنا بھی مشکل تھا۔

امریکی صدر تھامس جیفرسن نے ابتدا میں صرف نیو اورلینز خریدنے کی پیشکش کی، لیکن فرانس نے پورا وسیع علاقہ 15 ملین ڈالر میں دینے کی پیشکش کر دی۔ 1803 میں یہ معاہدہ طے پایا اور امریکا کا رقبہ تقریباً دوگنا ہو گیا۔ یہ سودا امریکی تاریخ کے اہم ترین معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔

فلوریڈا: دباؤ کے بعد معاہدہ

فلوریڈا اسپین کے قبضے میں تھا، لیکن اسپین کمزور ہو چکا تھا اور علاقے پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتا تھا۔ سرحدی جھگڑوں اور حملوں کے بعد امریکا نے فلوریڈا پر دباؤ بڑھایا۔ آخرکار 1819 میں اسپین نے 5 ملین ڈالر کے عوض فلوریڈا امریکا کے حوالے کر دیا۔ یہ معاہدہ بھی طاقت کے توازن کا نتیجہ تھا۔

ورجن آئی لینڈز: سونے کے بدلے جزائر

پہلی عالمی جنگ کے دوران امریکا کو خدشہ تھا کہ جرمنی ڈنمارک پر قبضہ کر کے اس کے جزائر استعمال کر سکتا ہے۔ امریکا نے ڈنمارک کو 25 ملین ڈالر سونے کی شکل میں پیش کیے۔ بالآخر 1917 میں ورجن آئی لینڈز امریکا کے حوالے کر دیے گئے۔ اس معاہدے میں امریکا نے ڈنمارک کے گرین لینڈ پر حق کو بھی تسلیم کیا۔

گرین لینڈ کی بحث

گرین لینڈ وسائل اور جغرافیائی اہمیت کے باعث عالمی توجہ کا مرکز ہے۔ امریکا ماضی میں بھی اسے خریدنے کی پیشکش کر چکا ہے، لیکن ڈنمارک نے انکار کیا۔ آج جب اس معاملے پر دوبارہ بات ہو رہی ہے تو سوال یہی اٹھتا ہے کہ کیا جدید دور میں کسی ملک یا علاقے کو خریدا جا سکتا ہے؟

امریکی تاریخ بتاتی ہے کہ زمین خریدنا اس کی توسیع کا ایک اہم طریقہ رہا ہے۔ کبھی بیچنے والا راضی تھا، کبھی دباؤ میں۔ اس پس منظر میں گرین لینڈ کی بحث نئی ضرور ہے، مگر غیر معمولی نہیں۔ تاہم آج کی دنیا میں ایسے معاہدے صرف پیسے سے نہیں، بلکہ سیاست، عوامی رائے اور بین الاقوامی قوانین سے بھی جڑے ہوتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسپین امریکا جرمنی ڈنمارک روس فرانس گرین لینڈ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسپین امریکا گرین لینڈ گرین لینڈ امریکا نے

پڑھیں:

امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی

امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لندن (آئی پی ایس )امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کے لیے برطانوی ائیربیس کے استعمال پر ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کے عہدہ سنبھالنیکے بعد امریکی فوج نے گلوسیسٹرشائر میں واقع رائل ائیر فورس کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے ایران کے خلاف B-1 اسٹریٹجک بمبار طیاروں سے بمباری کی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اس حملے میں امریکی طیاروں نے ایران عراق سرحدی علاقے شلمچہ بارڈرکراسنگ کو نشانہ بنایا جس میں 2 افراد شہید اور 11 زخمی ہوئے۔ ایران نے اس کے جواب میں آنکھ کے بدلے آنکھ کی بنیاد پر جوابی کارروائیوں کی دھمکی دی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نیکہا کہ ہماری دفاعی پالیسی واضح ہے، آنکھ کے بدلے آنکھ۔ جو لوگ کسی بھی قسم کی مدد کے ذریعے ایران کیخلاف جارحیت میں شریک ہوں گے، انہیں بھی جائز ہدف سمجھا جائیگا۔اب ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی طیاروں کے برطانوی فضائی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو خبردار کیا ہے۔

پاسداران انقلاب کا کہنا ہیکہ حالیہ کارروائیوں میں امریکی افواج نے ابتدا میں بحر ہند میں موجود بحری جہازوں سے کروز میزائل داغے اور جب ان کے ذخائر کم ہوگئے تو برطانیہ کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہیکہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز فوجی ہدف سمجھا جائے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا اگلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی