گھارو: تجاوزات کے خلاف ایکشن، مین روڈ59فٹ تک صاف کردیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گھارو(جسارت نیوز)اسسٹنٹ کمشنر میرپور ساکرو اٹ گھارو کے دفتر میں تاجر ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر میں تجاوزات کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مین روڈ پر کسی بھی قسم کی تجاوزات برداشت نہیں کی جائیں گی اور 59 فٹ (18 میٹر) کی حد تک سڑک کو مکمل طور پر صاف رکھا جائے گا، جبکہ غیر ضروری گاڑیوں کو سڑک پر کھڑا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے ہدایت کی کہ دکاندار فٹ پاتھ سے دس فٹ کے اندر اپنی دکان کی حدود میں پارکنگ کی جگہ مختص کریں تاکہ گاڑیاں وہیں کھڑی کی جا سکیں اور سامان کی لوڈنگ و اَن لوڈنگ بھی دکان کی حدود کے اندر ہی کی جائے، تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کے دونوں اطراف کو صاف اور کشادہ رکھا جائے گا تاکہ نیشنل ہائی وے سے گزرنے والی ٹریفک کو بہتر سہولت میسر آ سکے۔ دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ وہ دکانوں کے باہر کسی قسم کی اضافی تجاوزات قائم نہ کریں۔ اجلاس میں رمضان المبارک کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ سرکاری ریٹ لسٹ پر سختی سے عمل درآمد کرانے کا اعلان کیا گیا تاکہ عوام کو رمضان المبارک کے دوران اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری سامان مقررہ اور رعایتی نرخوں پر فراہم کیا جا سکے۔ مزید برآں، رمضان المبارک کے احترام میں قریبی علاقوں میں ہوٹل کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔