گھارو: تجاوزات کے خلاف ایکشن، مین روڈ59فٹ تک صاف کردیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گھارو(جسارت نیوز)اسسٹنٹ کمشنر میرپور ساکرو اٹ گھارو کے دفتر میں تاجر ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر میں تجاوزات کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مین روڈ پر کسی بھی قسم کی تجاوزات برداشت نہیں کی جائیں گی اور 59 فٹ (18 میٹر) کی حد تک سڑک کو مکمل طور پر صاف رکھا جائے گا، جبکہ غیر ضروری گاڑیوں کو سڑک پر کھڑا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے ہدایت کی کہ دکاندار فٹ پاتھ سے دس فٹ کے اندر اپنی دکان کی حدود میں پارکنگ کی جگہ مختص کریں تاکہ گاڑیاں وہیں کھڑی کی جا سکیں اور سامان کی لوڈنگ و اَن لوڈنگ بھی دکان کی حدود کے اندر ہی کی جائے، تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کے دونوں اطراف کو صاف اور کشادہ رکھا جائے گا تاکہ نیشنل ہائی وے سے گزرنے والی ٹریفک کو بہتر سہولت میسر آ سکے۔ دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ وہ دکانوں کے باہر کسی قسم کی اضافی تجاوزات قائم نہ کریں۔ اجلاس میں رمضان المبارک کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ سرکاری ریٹ لسٹ پر سختی سے عمل درآمد کرانے کا اعلان کیا گیا تاکہ عوام کو رمضان المبارک کے دوران اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری سامان مقررہ اور رعایتی نرخوں پر فراہم کیا جا سکے۔ مزید برآں، رمضان المبارک کے احترام میں قریبی علاقوں میں ہوٹل کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔