کراچی: ملک بھر میں رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر سوئی سدرن گیس کمپنی نے گیس فراہمی کا خصوصی شیڈول جاری کر دیا ہے جس کے تحت صارفین کو روزانہ طویل دورانیے تک گیس دستیاب رہے گی تاکہ سحر و افطار کے اوقات میں گھریلو ضروریات متاثر نہ ہوں۔

کمپنی ترجمان کے مطابق نئے شیڈول کے تحت رمضان کے دوران صارفین کو روزانہ تقریباً ساڑھے 19 گھنٹے بلا تعطل گیس فراہم کی جائے گی، گیس کی سپلائی رات 3 بجے سے شروع ہو کر اگلی رات 10 بج کر 30 منٹ تک جاری رہے گی جبکہ باقی تقریباً ساڑھے 4 گھنٹے گیس بند رکھی جائے گی۔

حُکام کا کہنا ہے کہ یہ وقفہ ایسے اوقات میں رکھا گیا ہے جب گھریلو استعمال نسبتاً کم ہوتا ہے تاکہ اہم اوقات میں زیادہ سے زیادہ سہولت دی جا سکے۔

ترجمان نے وضاحت کی کہ یہ خصوصی انتظام صرف رمضان المبارک کے لیے کیا گیا ہے اور اس کا مقصد صارفین کو کھانا پکانے اور دیگر گھریلو کاموں میں درپیش مشکلات کم کرنا ہے، کمپنی نے اپنے نظام میں تکنیکی بہتری اور دباؤ کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اضافی اقدامات بھی کیے ہیں تاکہ سپلائی شیڈول پر مکمل عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے۔

گیس حکام کے مطابق صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گیس کا استعمال احتیاط اور ضرورت کے مطابق کریں تاکہ نظام پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے اور تمام علاقوں میں یکساں فراہمی برقرار رکھی جا سکے، رمضان میں گیس کی طلب عام دنوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے، اسی لیے لوڈ مینجمنٹ کے خصوصی شیڈول تیار کیے جاتے ہیں۔

دوسری جانب شہری حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اعلان کردہ شیڈول پر مکمل عمل ہوگا اور ماضی کی طرح غیر اعلانیہ بندشوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ صارفین نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی علاقے میں تکنیکی خرابی یا ہنگامی صورتحال کے باعث سپلائی متاثر ہو تو کمپنی بروقت اطلاع فراہم کرے تاکہ عوام متبادل انتظام کر سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل صارفین کو

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود