اسلام ٹائمز: آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ہم ایران کے سرحدی علاقے سے ایران کا تیل اپنے لیے حاصل کر سکتے ہیں لیکن ہم نے اس حوالے سے ایران سے زیادہ قربت نہیں رکھی۔ گیس کی پائپ لائن جو بننی تھی وہ بھی نہ بن سکی۔ ایران نے حال ہی میں آبنائے ہرمز کے پانیوں میں فوجی بحری مشقیں کی ہیں۔ آئندہ آنے والی ممکنہ کوئی جنگ بھی آبنائے ہرمز پر تسلط پائے بغیر نہیں جیتی جا سکتی۔ کون کس کی گردن پر تلوار رکھے گا، اس کی پیشن گوئی کی جا سکتی ہے۔ تحریر: پروفیسر تنویر حیدر نقوی
”آبنائے ہرمز“ یا ”اسٹریٹ آف ہرمز“ (Strait of Hormoz) خلیج فارس کے پانیوں میں ایسی تنگنائے یا چھوٹی گلی ہے جو اس سے گزرنے والوں کے لیے کسی وقت بھی کوچہء رقیب ثابت ہو سکتی ہے۔ ’’آبنائے ہرمز‘‘ کو یہ نام تاریخی طور پر ”جزیرۂ ہرمز“ اور قدیم بندرگاہ ہرمز کی نسبت سے دیا گیا ہے۔ یہ سمندری گزرگاہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے۔ اس کے قریب ایک مشہور قدیم جزیرہ اور بندرگاہ تھی جس کا نام ’’ہرمز‘‘ (Hormuz/Ormuz) تھا۔ اسی وجہ سے اس تنگ سمندری راستے کو ’’آبنائے ہرمز‘‘ کہا جانے لگا۔ جغرافیائی لحاظ سے یہ گزرگاہ خلیج فارس سے بحرِ عمان / بحیرہ عرب کو جوڑتی ہے۔
اسی اہم محلِ وقوع کی وجہ سے اسے عالمی توانائی کی ”شہ رگ“ بھی کہا جاتا ہے۔ لسانی ماہرین کے مطابق “ہرمز” کا لفظ قدیم فارسی لفظ ’’ہُرمُزد / ہرمزد‘‘ (Hormozd) سے نکلا ہے جو زرتشتی روایت میں ایک مقدس نام سے متعلق تھا۔ وقت کے ساتھ یہی لفظ مختصر ہوکر ’’ہرمز‘‘ بن گیا اور جغرافیائی نام کے طور پر استعمال ہونے لگا۔ آج کل یہ سمندری راستہ دنیا کے تقریباً تیس فیصد تیل کی تجارت کو پانی کی راہداری فراہم کرتا ہے۔ دنیا کی زیادہ در معاشی زندگی کا انحصار تیل پر ہے۔ جس طرح انسانی بدن میں خون دوڑتا ہے اسی طرح عالمی معیشت کی رگوں میں تیل رواں ہے۔
گویا تیل سے ہی دنیا کی ریل پیل ہے۔ تیل بند تو سب کچھ بند۔ امریکہ کے ایران سے حالیہ جھگڑے میں تیل ایک بڑا ہتھیار بن سکتا ہے۔ ایران یہ دھمکی لگاتا ہے کہ اگر اس پر جارحیت کی گئی تو وہ اس آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا۔ یعنی پھر یہاں سے کوئی اپنی ضرورت کا ایک قطرہ بھی نہیں لے جا سکے گا۔ اس گزرگاہ سے دنیا کا جو تیس فیصد تیل گزرتا ہے اس میں سے زیادہ تر تیل خلیجی ریاستوں کا ہے۔ خلیجی ریاستوں (سعودی عرب، عراق، یو اے ای، کویت، قطر وغیرہ) کے تیل کی بڑی مقدار آبنائے ہرمز سے گزر کر عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرتی ہے۔
تازہ عالمی اندازوں کے مطابق تقریباً 20 ملین بیرل یومیہ تیل (خام تیل + پیٹرولیم مصنوعات) آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ یہ مقدار دنیا کی کل تیل کھپت کا لگ بھگ 20 فیصد ہے۔ اس 20 ملین بیرل یومیہ میں زیادہ تر تیل خلیجِ فارس کے ممالک سے آتا ہے، خاص طور پر سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور ایران سے۔ ایک یومیہ تیل کی ترسیل کا اندازہ لگایا جائے تو سعودی عرب کا 5.
اگر بات پاکستان کی کی جائے تو پاکستان اپنی ضرورت کا زیادہ تر تیل بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے۔ پاکستان کے بڑے تیل سپلائر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عراق، ایران (محدود یا غیر رسمی/بارڈر کے ذریعے)، روس (حالیہ سالوں میں) اور سنگاپور (ریفائنڈ مصنوعات کی تجارت کے حساب سے) ہیں۔ 2023ء کے تجارتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان، یو اے ای سے 23%، سعودی عرب سے 21%، قطر سے 19%، کویت سے 9%، سنگاپور سے 4–5%، ایران سے 3–4% اور عمان، انڈونیشیا، چین وغیرہ سے اس سے کم مقدار میں تیل لیتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کا تقریباً 70٪ سے زیادہ تیل مشرقِ وسطیٰ سے آتا ہے۔
پاکستان ایک ”نیٹ آئل امپورٹر“ ملک ہے، خود کفیل نہیں۔ یہ تیل کس راستے سے آتا ہے؟ اس کا سب سے اہم راستہ، سمندری راستہ (Sea Route) ہے۔ یہ بنیادی اور اصل راستہ ہے۔ خلیج فارس سے تقریباً تمام تیل اسی راستے سے آتا ہے۔ پاکستان کی آئل سپلائی کا انحصار اس روٹ پر زیادہ ہے۔ پاکستان کے لیے تیل آبنائے ہرمز سے بحیرہ عرب اور پھر بحیرہ عرب سے کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں تک پہنچتا ہے۔ روس سے تیل کی ترسیل ایک نیا ذریعہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب، یو اے ای، کویت، قطر اور عراق سے آنے والا تیل اسی راستے سے آتا ہے۔
پاکستان نے 2023ء کے بعد روس سے سستا خام تیل لینا شروع کیا۔ ایران کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کی اجازت دی گئی ہے لیکن پابندیوں کی وجہ سے یہ بڑا سرکاری ذریعہ نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ہم ایران کے سرحدی علاقے سے ایران کا تیل اپنے لیے حاصل کر سکتے ہیں لیکن ہم نے اس حوالے سے ایران سے زیادہ قربت نہیں رکھی۔ گیس کی پائپ لائن جو بننی تھی وہ بھی نہ بن سکی۔ ایران نے حال ہی میں آبنائے ہرمز کے پانیوں میں فوجی بحری مشقیں کی ہیں۔ آئندہ آنے والی ممکنہ کوئی جنگ بھی آبنائے ہرمز پر تسلط پائے بغیر نہیں جیتی جا سکتی۔ کون کس کی گردن پر تلوار رکھے گا، اس کی پیشن گوئی کی جا سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ملین بیرل سے آتا ہے سے ایران ایران سے یو اے ای جا سکتی تیل کی
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔