آزاد کشمیر عوامی معاہدے کے 37 میں سے 17 مطالبات پر عملدرآمد ہوچکا، امیر مقام
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
فائل فوٹو
وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں عوامی معاہدے کے 37 مطالبات میں سے 17 پر مکمل عمل درآمد ہو چکا۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں امیر مقام نے کہا کہ کابینہ کا حجم 20 وزراء تک محدود کرکے بڑا مطالبہ پورا کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں عوامی معاہدے کے 37 مطالبات میں سے 17 پر مکمل عمل درآمد ہو چکا، مختلف احتجاجی سرگرمیوں میں معطل ملازمین بحال کر دیے ہیں۔
وفاقی وزیر امور کشمیر نے مزید کہا کہ 3 ستمبر 2025ء کے واقعات میں جاں بحق افراد کے ورثاء کو معاوضہ اور نوکریاں دیں، 8 افراد کے لواحقین کو 120 ملین روپے سے زائد ادائیگیاں ہوگئیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ مظاہرین کے خلاف 177 ایف آئی آرز واپس لے لی گئیں، پنجاب اور خیبر پختونخوا کی طرز پر پراپرٹی ٹیکس میں اصلاحات نافذ ہے، بجلی میٹرز کی ٹینڈرنگ کے ذریعے شفاف تنصیب یقینی بنائی گئی ہے۔
امیر مقام نے یہ بھی کہا کہ نیب قوانین کےمطابق احتسابی نظام کا نفاذ کر دیا گیا، منگلاڈیم متاثرین کے مسائل کے حل پر عمل جاری ہے، گلپور اور رحمان گلپور پل کی بحالی کا ٹینڈر جاری ہو چکا جبکہ مظفرآباد اور کوٹلی میں 2 نئے تعلیمی بورڈز کی منظوری ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ 9 اعشاریہ 9 ارب روپے کی لاگت سے صحت کے 3 بڑے منصوبے منظور کرلیے گئے ہیں، بجلی نظام کی بہتری کےلیے 10 ارب روپے کی اسکیم آخری مراحل میں ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کشمیر کالونی واٹر سپلائی اسکیم اے ڈی پی 26-2025ء میں شامل ہے، 10 اضلاع میں پانی فراہمی کے منصوبوں میں 5 مکمل ہوگئے جبکہ 5 پر کام جاری ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ضلعی سطح پر ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینوں کی تنصیب ہوچکی، 10 ارب روپے ڈیولپمنٹ فنڈز پر کام تیزی سے جاری ہے، 12 یونینز کے مسائل کےلیے وزارتی کمیٹی قائم کردی گئی۔
امیر مقام نے کہا کہ میرپور ایئر پورٹ فزیبلٹی آخری مرحلے میں ہے، جائیداد حقوق پالیسی آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کی جائے گی، لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں اصلاحات زیر غور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مہاجرین نشستوں سے متعلق اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم ہے، دانش اسکولوں کی تعداد 3 سے بڑھا کر 5 کر دی گئی اور دانش یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر نے کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا