وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خطۂ پوٹھوہار کی زرعی ترقی کے لیے 7 ارب روپے مالیت کا ’ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان‘ متعارف کرا دیا۔ صوبائی وزیر زراعت سید عاشق کرمانی نے چکوال میں بارانی ایگریکلچر انسٹیٹیوٹ میں منصوبے کی باقاعدہ لانچنگ کی اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام بارانی علاقوں میں پیداوار بڑھانے، پانی کے مؤثر استعمال اور کاشت کاروں کی آمدن میں اضافے کا سبب بنے گا۔

یہ بھی پڑھیں:مریم نواز کا مری میں رین واٹر ہارویسٹنگ منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل پر اظہار اطمینان

صوبائی وزیر کے مطابق منصوبے کے تحت پانی کے مؤثر اور باکفایت استعمال کا جامع پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ کاشت کاروں کو مونگ پھلی کے 25 ہزار کلو گرام معیاری بیج فراہم کیے جائیں گے، جبکہ 4 ہزار 500 ایکڑ رقبے کی اصلاح بلڈوزرز کے ذریعے کی جائے گی تاکہ قابلِ کاشت زمین میں اضافہ ہو سکے۔

انہوں نے بتایا کہ 3 ہزار 625 ایکڑ رقبے پر زیتون کے نئے باغات لگائے جائیں گے اور زیتون کے فروغ کے لیے 100 ایکڑ پر جدید طریقۂ کاشت متعارف کرایا جائے گا۔ زیتون کا تیل نکالنے کے لیے چار کولڈ پریس یونٹس بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ مقامی سطح پر ویلیو ایڈیشن کو فروغ مل سکے۔

منصوبے کے تحت 400 منی ڈیمز تعمیر کیے جائیں گے تاکہ بارش کے پانی کو محفوظ بنا کر زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ جنگلی جانوروں سے فصلوں کے تحفظ کے لیے 2 ہزار 790 کنال رقبے پر باڑ بھی نصب کی جائے گی۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ اس منصوبے میں تازہ پھلوں کی جدید اقسام بھی شامل کی گئی ہیں تاکہ خطہ پوٹھوہار کی زرعی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اور کسانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

چکوال زرعی انقلاب مریم نواز وزیر زراعت سید عاشق کرمانی وزیراعلٰی پنجاب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چکوال زرعی انقلاب مریم نواز جائیں گے کے لیے کیا جا

پڑھیں:

ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ

قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور  مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔

سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار