آئی سی سی کا بھارت سے اہم کرکٹ ایونٹس کی میزبانی واپس لینے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
پاک بھارت کشیدگی کے باعث انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے بھارت سے مستقبل کے اہم ایونٹس کی میزبانی واپس لیے جانے کا امکان ہے۔
آسٹریلوی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی سی سی نے بھارت میں شیڈول 2029 چیمپئنز ٹرافی اور 2031 کے ون ڈے ورلڈکپ کے لیے متبادل میزبان ملک پر غور شروع کردیا۔ خطے میں جاری سیاسی کشیدگی اور ممکنہ سفارتی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف آپشنز کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان گلوبل ایونٹس کی میزبانی آسٹریلیا کو دی جا سکتی ہے کیونکہ آسٹریلیا اس سے قبل بھی کامیابی سے بڑے عالمی ٹورنامنٹس کی میزبانی کرچکا ہے اور اس کے پاس جدید اسٹیڈیمز اور مضبوط انتظامی ڈھانچہ موجود ہے۔
مزید پڑھیںپاک بھارت میچ، آئی سی سی نے کشیدگی ختم کرنے کیلیے 5 ممالک کے کرکٹ سربراہان کو مدعو کرلیا
آئی سی سی، پی سی بی اور بی سی بی مذاکرات؛ آئی سی سی کا اعلامیہ جاری
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں ورلڈ کپ کے دوران بنگلادیش کی شرکت کے معاملے پر بھی تحفظات سامنے آئے۔ اسی تناظر میں آئی سی سی آئندہ بین الاقوامی ایونٹس میں ممکنہ رکاوٹوں سے بچنے کے لیے متبادل وینیوز کی تلاش میں ہے تاکہ کسی بھی قسم کی سفارتی یا سیکیورٹی صورتحال ٹورنامنٹ کے انعقاد پر اثر انداز نہ ہو۔
یاد رہے کہ مالی طور پر مضبوط کرکٹ مارکیٹ ہونے کے باعث گزشتہ برسوں میں بھارت کو متعدد بڑے ایونٹس کی میزبانی دی گئی تھی، تاہم پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے بعد اب ان فیصلوں پر نظرثانی کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایونٹس کی میزبانی
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک