سحر وافطار میں گیس وبجلی لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی: علی پرویز
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وفاقی وزیرِ علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ سحر وافطار میں گیس اوربجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی۔
وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ تمام فیڈرزکی مانٹیرنگ کےلیےجدید نظام فعال ہے، سوئی ناردرن اورسوئی سدرن گیس کمپنیوں کی مشاورت سےپلان تیارکیا گیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ سحراورافطاری کےاوقات میں گیس فراہمی کی خصوصی نگرانی کی جائےگی، نقصان والے فیڈرز پر بھی سحروافطار کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی۔
وفاقی وزیرِ پٹرولیم کا مزید کہنا تھا کہ شہری 1199کے نمبر پر گیس سے متعلق اپنی شکایات رجسٹر کروا سکتےہیں۔دوسری جانب وزیرِ توانائی اویس لغاری نے کہا کہ اگرسحر اور افطارمیں بجلی کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہو تو 118پر شکایت کر سکتے ہیں، نقصان والے فیڈرز پر بھی سحر و افطار کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔