بالی وڈ اسٹار سدھارتھ ملہوترا کے والد انتقال کر گئے، اداکار نے سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام شیئر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
بالی وڈ اداکار سدھارتھ ملہوترا نے اپنے والد سنیل ملہوترا کے انتقال پر جذباتی یادیں شیئر کی ہیں اور اپنی ماں کی قربانیوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔ سنیل ملہوترا 14 فروری کو نئی دہلی میں طویل علالت کے بعد وفات پا گئے تھے۔
گذشتہ سال، ایک انٹرویو میں سدھارتھ نے بتایا کہ والد کی بیماری نے خاندان پر جذباتی اثر ڈالا، اور ان کی والدہ نے بحیثیت بنیادی دیکھ بھال کرنے والی بہت قربانیاں دی۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد کافی عرصے سے بیمار تھے اور میں اپنی ماں پر تھوڑا سخت ہو جاتا کیونکہ وہ دوائیں سنبھال رہی تھیں۔ پھر ایک دن وہ بیس سال پہلے کی بات کرنے لگیں جو کچھ انہیں سہنا پڑا جب ہم چھوٹے تھے یا جب میں وہاں نہیں تھا یا جب میں اپنی زندگی بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔
View this post on Instagram
A post shared by Sidharth Malhotra (@sidmalhotra)
انہوں نے مزید کہا کہ وہ یہ معلومات ہم سے چھپاتی تھیں کہ میرے والد کیا برداشت کر رہے ہیں اور مجھے اس بات سے شرمندگی محسوس ہوئی کہ میں نے انہیں کریڈٹ نہیں دیا۔ میں نے کبھی اس بارے میں بات نہیں کی اور یہ کوئی راز نہیں۔ بس آج کئی سالوں کے بعد میں نے یہ سمجھا کہ مجھے ان کے ساتھ محبت کے ساتھ پیش آنا چاہیے تھا اور امید ہے کہ اب میں اس کا ازالہ کر سکوں گا۔
یہ بھی پڑھیں: سلیم خان آئی سی یو میں منتقل، سلمان خان اور دیگر خاندان اسپتال پہنچ گیا
اداکار نے اپنے والد کے لیے سوشل میڈیا پر جذباتی پوسٹ کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا اور انہیں کامیاب ،ایماندار، اخلاق اور ثقافت کا مالک قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کہ وہ ان اقدار کے مطابق جیتے جو کبھی نہیں ٹوٹیں حتی کہ جب زندگی نے انہیں حد سے زیادہ آزمایا۔ انہوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ حتی کہ جب فالج نے انہیں وہیل چیئر تک محدود کر دیا۔
ان کا کہنا تھا پاپا، آپ کی ایمانداری میری میراث ہے۔ آپ کی طاقت مجھے ہر دن رہنمائی دیتی ہے۔ آپ کا مثبت رویہ ابھی بھی اس خاندان کو ساتھ رکھتا ہے۔ لیکن جو خلا آپ نے چھوڑا وہ ناقابلِ پیمائش ہے۔ میں ہمیشہ آپ کا نام، آپ کی اقدار اور آپ کی روشنی آگے بڑھاؤں گا۔
اداکار نے والد بننے کے تجربے پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ والد کی غیر موجودگی کے باعث وہ اپنی بیٹی کے ہر لمحے میں شریک رہنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا اب میں اپنی بیٹی کے ساتھ جاگتا اور دن کا آغاز کرتا ہوں۔ زندگی میں مثبت تبدیلی آئی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ والد کی غیر موجودگی میرے لیے سبق بنے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ بالی ووڈ اداکار سدھارتھ ملہوترا سدھارتھ ملہوترا والد انتقال.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ بالی ووڈ اداکار سدھارتھ ملہوترا سدھارتھ ملہوترا والد انتقال سدھارتھ ملہوترا پر جذباتی انہوں نے والد کی
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔