data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وہاڑی (مانیٹرنگ ڈیسک) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جیل غیرت سے کاٹی جاتی ہے،بانی کوئی آسان کام کرلیں،تم مدر ٹیرسا بن جاتے، کرکٹ کے گاڈ بن جاتے۔ ، عمران خان کے دور میں حکومت فیض حمید نے کی، کے پی حکومت مار کٹائی پر اتری ہوئی ہے۔ وہاڑی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم نے ایک سوچ پر حکومت بنائی، ہم نے مریم بی بی، شہباز شریف کو بھی ووٹ دیا، ہمارا شہباز شریف اورمریم بی بی کے ساتھ چلنے کا ارادہ ہے، ہم نے صدر کی سیٹ کے لیے بھی ووٹ مانگا۔ صدر زرداری نے کہا کہ 4سال بانی کی نہیں فیض حمید کی حکومت تھی، فیض حمید کو کیا پتا کہ کیسے حکومت کرنی اورریلیف دینا ہے، مجھے پتا تھا بلوچستان کے عوام کن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، بلوچوں کو خود ڈیمانڈ دیں کہ یہ مانگو۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کوشش کررہے ہیں،حالات پہلے سے بہتر ہیں، کے پی حکومت مارکٹائی پر اتری ہوئی ہے، انہوں نے ملک بنانا نہیں، انہوں نے خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں کوئی کام نہیں کیا۔ عمران خان کا نام لیے بغیر صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا ملک ایک سال رک جائے تو 10 سال پیچھے چلا جاتا ہے، یہ ملک چار سال رک گیا تھا، اس شخص کو روز بھاشن دینے کی عادت تھی، ہر ٹی وی پر اس کی تقریر آتی تھی تو باقی تقریریں بند ہوجاتی تھیں۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ ڈیڑھ سال نہیں ہوا کہ وہاں سے آواز آرہی ہے، بیٹا کہہ رہا ہے کہ اسے ملنے نہیں دیا جا رہا، میں نے 14 سال جیل کاٹی، اپنے بچوں سے جب ملا تو وہ مجھ سے قد میں بڑے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تکالیف تو آپ نے برداشت کرنی ہیں، یہ تو زندگی کا حصہ ہے، اگر نہیں برداشت کرسکتے تو کوئی اور آسان کام کرو نا! یہ کام کرنا ضروری ہے! تم مدرٹریسا بن جاتے، کرکٹ کے گاڈ بن جاتے، ہر جگہ کرکٹ کلبس بناتے، تم ایک شعبے کو لے لیتے، اگر سیاست ہے تو اس میں ہر شعبہ آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت ہی مسائل کا حل ہے، میں خود 7 پشتوں سے زمیندار ہوں، اپنے دور میں گندم کی قیمتوں پر لیول پلیئنگ فیلڈ بنائی، پورے سندھ میں ڈیڑھ لاکھ ایکڑ زرعی زمین آباد کی۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ سندھو دریا ہزاروں سال سے بہہ رہا ہے، پنجاب کو30سال سے کہہ رہا ہوں اپنا پانی راوی سے نکالیں، ہمیں پانی کا مؤثر استعمال یقینی بنانا ہوگا، ہم نے ایک ملین ہیکٹر سے زیادہ مینگروز لگائے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ہر چیز کو سنبھل کر، دیکھ کر اورسوچ کر کرتا ہوں، پاکستان بنانے میں سندھ سب سے آگے تھا، سندھ اسمبلی نے پہلے اس کے بعد ڈھاکا اسمبلی نے پاکستان پاس کیا۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا صف علی زرداری نے کہا زرداری نے کہا کہ انہوں نے بن جاتے کام کر

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف