ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ فوجیوں کو 12 اکتوبر کو جنوبی افغانستان میں ڈیورنڈ لائن پر طالبان کی سرکاری افواج کے حملوں کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ افغانستان کی طالبان حکومت نے سعودی عرب کی ثالثی میں تین پاکستانی فوجیوں کو رہا کر دیا۔ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے غیر ملکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ سعودی عرب کی ثالثی کے ذریعے تین پاکستانی فوجیوں کو رمضان المبارک کے موقع پر جیل سے رہا کیا گیا۔ ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ فوجیوں کو 12 اکتوبر کو جنوبی افغانستان میں ڈیورنڈ لائن پر طالبان کی سرکاری افواج کے حملوں کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ طالبان حکومت کے مرکزی ترجمان نے مزید کہا کہ امارت اسلامیہ نے ان قیدیوں کو دوسرے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے رہا کیا۔ انھوں نے کہا کہ جنگ کے دوران پاکستانی افواج نے افغان جانب سے کوئی فوجی نہیں پکڑا۔ طالبان حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان نے تمام ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات پر زور دینے کی اپنی پالیسی کے مطابق رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی آمد کے اعزاز میں جو کہ رحمتوں اور مغفرتوں کا مہینہ ہے اور برادر ملک سعودی عرب کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کی میزبانی کی درخواست کے جواب میں کل پیر کے روز کابل پہنچنے والے تین پاکستانی فوجیوں کو قیدیوں کے ساتھ رہا کیا۔ پاکستان نے ابھی تک ان قیدیوں کی رہائی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تین پاکستانی فوجیوں کو طالبان حکومت سعودی عرب کی

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے