Nawaiwaqt:
2026-07-24@04:19:12 GMT

پاکستانیوں کو ویزہ فری انٹری دینے والے 32 ممالک کون سے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

پاکستانیوں کو ویزہ فری انٹری دینے والے 32 ممالک کون سے ہیں؟

پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ میں بہتری کے بعد 32 ممالک کا ویزا فری سفر ممکن ہوگیا۔فروری 2026 کے تازہ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی بہتر ہو کر 97 ویں نمبر پر پہنچ گئی ہے جو جنوری میں 98 اور گزشتہ سال 103 ویں نمبر پر تھی۔ پاکستانی شہری اب 32 ممالک میں بغیر ویزا، ویزا آن آرائیول یا ای-ٹی اے (eTA) کے ذریعے سفر کر سکتے ہیں۔یہ ممالک کیریبیئن جزائر، افریقی سفاری، جنوبی ایشیائی ثقافتی مراکز اور بحرالکاہل کے جزائر پر محیط ہیں جو سیاحت، کاروبار اور مختصر مدت کے سفر کے لیے سہولت فراہم کرتے ہیں۔

پاکستانی پاسپورٹ کی یہ ترقی سفارتی کوششوں اور بین الاقوامی معاہدوں کا نتیجہ ہے جس سے پاکستانی شہریوں کو بین الاقوامی سفر میں آسانی حاصل ہوگی اور سیاحت، کاروبار اور خطے کے ممالک سے تعلقات میں اضافہ ممکن ہوگا۔پاکستانی شہری اب درج ذیل ممالک کا سفر آسانی سے کر سکتے ہیں:

بغیر ویزا (Visa-free) 11 ممالک:

بارباڈوس، کوک آئلینڈز، ڈومینیکا، ہیٹی، مائکرونیشیا، مونٹسیراٹ، روانڈا، سینٹ ونسنٹ اینڈ گرینیڈائنز، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو، وانواتو، دی گیمبیا

ویزہ آن آرائیول (VOA) 18 ممالک:

برونڈی، کمبوڈیا، کیپ ورد آئیلینڈز، کومورو آئلینڈز، جیبوتی، گنی بساؤ، مڈگاسکر، مالدیپ، موزمبیق، نیپال، نیوے، پالاؤ آئیلینڈز، قطر، ساموا، سینیگال، سیرالیون، تیمور-لیسٹے، ٹوالو

ای-ٹی اے (eTA) 3 ممالک:

کینیا، سیشلز، سری لنکا

واضح رہے کہ عالمی سطح پر سنگاپور کا پاسپورٹ سب سے مضبوط ہے جو 192 ممالک تک ویزا فری رسائی فراہم کرتا ہے،

جاپان اور جنوبی کوریا کے پاسپورٹ پر 187 ممالک میں ویزا فری انٹری ممکن ہے، سویڈن اور یو اے ای کے شہری 186 ممالک میں ویزا لیے بغیر جاسکتے ہیں۔ 

یورپی ممالک فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین اور سوئٹزرلینڈ کے پاسپورٹس پر 185 ممالک ویزہ فری انٹری دیتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی