امت مسلمہ کی کامیابی کا راز قرآن سے مضبوط تعلق میں مضمر ہے‘ جاوداں فہیم
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)’’ہر دل تک قرآن‘‘کے مرکزی عنوان کے تحت شہر کے 13اضلاع میں 25شعبان سے دورہ قرآن کا آغاز ہو چکا ہے، خواتین کی بڑی تعداد دورہ قرآن میں شرکت کر رہی ہے۔ناظمہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی کراچی جاوداں فہیم نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی ہدایت کا کامل ضابطہ حیات ہے اور امت مسلمہ کی کامیابی کا راز قرآن سے مضبوط تعلق میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر بھر میں جاری دورہ قرآن میں خواتین کی کثیر تعداد شرکت کر رہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین قرآن کے پیغام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔جاوداں فہیم نے کہا کہ یہ دورہ قرآن کا یہ سلسلہ 25رمضان المبارک تک جاری رہے گا اور اس کے ذریعے خواتین کو قرآنِ مجید کی تفسیر عام فہم انداز میں سمجھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کی تعلیمات پر عمل کیے بغیر ہم دنیا و آخرت میں حقیقی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے اور جب تک قرآن کو انفرادی اور اجتماعی زندگی کا رہنما نہ بنایا جائے، معاشرے میں مثبت تبدیلی ممکن نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دورہ قرآن کے فیوض و برکات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں اپنی زندگیوں کو قرآن کے مطابق ڈھالنا ہوگا تاکہ ہم ایک صالح معاشرہ تشکیل دے سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔