Jasarat News:
2026-06-02@23:16:35 GMT

عدالت عظمیٰ… ہدف پر نظر ثانی کی ضرورت

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260218-03-2
عدالت عظمیٰ نے پھانسی اور عمر قید کے زیر التوا مقدمات نمٹانے کے لیے آئندہ پنتالیس (45) روز کا ہدف متعین کیا ہے اس ضمن میں عدالت عظمیٰ کی طرف سے جاری کیے گئے اعلامیہ کے مطابق موجودہ منصف اعلیٰ جسٹس یحییٰ آفریدی کی قیادت میں اکتوبر 2024ء سے فوجداری مقدمات کی مجموعی زیر التوا تعداد 19 ہزار 549 سے کم ہو کر 12 ہزار 705 رہ گئی۔ 9 سے 14 فروری 2026ء کے دوران عدالت عظمیٰ نے سزائے موت اور عمر قید سے متعلق 3 5 4 فوجداری مقدمات نمٹائے، اسی ہفتے سزائے موت اور عمر قید سے متعلق 131 نئے مقدمات دائر ہوئے۔ ہفتہ وار بنیاد پر نمٹائے گئے مقدمات کی شرح دائر ہونے والے مقدمات سے تقریباً 270 فی صد زیادہ رہی فیصلہ کیا گیا کہ جنوری 2026ء تک کے تمام زیر التوا سزائے موت کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا۔ اعلامیہ کے مطابق مخصوص بنچز، اصلاحاتی گروپس اور عدالتی ٹیمیں مربوط حکمت عملی کے تحت اہداف کے حصول کے لیے سرگرم ہیں۔ چیف جسٹس نے زیر سماعت قیدیوں سے متعلق جیل پٹیشنز کو منظم اور تیز رفتار بنانے کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔ نظام عدل کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے یوں اگر وطن عزیز میں نظام انصاف کا جائزہ لیا جائے تو دیگر بہت سی خرابیوں کے ساتھ ساتھ ایک سب سے بڑی خرابی یہی ہے کہ شہریوں کو بروقت انصاف نہیں مل پاتا اور یہ محض محاورتاً مشہور جملہ ہی نہیں کہ دادا عدالت سے انصاف کے لیے رجوع کرتا ہے اور پوتے، پڑپوتے انصاف کے انتظار میں عدالتوں کے چکر لگاتے پائے جاتے ہیں، اس کی بہت سی عملی تعبیریں عدالتوں کے ریکارڈ میں پائی جاتی ہیں اور آئے روز ذرائع ابلاغ کی زینت بھی بنتی رہتی ہیں کہ عدالت کسی ملزم کو سالہا سال کی سماعتوں کے بعد کسی مقدمے میں بے گناہ اور بری کرنے کا اعلان کرتی ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ بری کیا جانے والا ملزم تو مدت ہوئی انصاف کے انتظار میں اور انصاف نہ ملنے کی شکایت لے کر منصف حقیقی کے حضور پیش ہو چکا ہوتا ہے۔ سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات 45 روز میں نمٹانے سے متعلق عدالت عظمیٰ کی طرف سے جاری کیا جانے والا اعلامیہ بھی اس حقیقت کی گواہی دے رہا ہے کہ ہمارے نظام عدل میں انصاف کی فراہمی کس قدر تاخیر کی شکار ہے اعلامیہ کے مطابق اکتوبر 2024ء میں زیر التوا مقدمات کی مجموعی تعداد 19549 تھی جن میں سے عدالت عظمیٰ نے سوا سال کی مدت میں سات ہزار سے کچھ کم مقدمات کا فیصلہ سنایا اور 12705مقدمات اب بھی فیصلہ طلب ہیں جن کو نمٹانے کے لیے عدالت عظمیٰ نے از خود 45 روز کی مدت مقرر کی ہے اگرچہ یہ مدت محترم منصف اعلیٰ اور ان کے ساتھی ججوں نے بظاہر نیک نیتی سے مقرر کی ہے جس کی تشہیر بھی ضروری سمجھی گئی ہے تاہم عدالت عظمیٰ کے اس ہدف کو کسی بھی صورت حقیقت پسندانہ قرار نہیں دیا جا سکتا عوام کو انصاف یقینا سستا اور فوری فراہم ہونا چاہیے مگر اس کوشش میں جلد بازی کو بھی کسی صورت قرین انصاف تصور نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے اپنے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق کم و بیش سوا برس کی مدت میں خاصی تگ و دو کے بعد عدالت عظمیٰ کے محترم جج صاحبان بڑی مشکل سے فیصلہ شدہ مقدمات کی تعداد کو سات ہزار کے قریب پہنچا سکے ہیں اب ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ صرف 45 دن کی مختصر مدت میں تیرہ ہزار کے قریب مقدمات کا فیصلہ اس طرح کر دیں گے کہ انصاف کے تقاضے بھی پورے ہو جائیں اور فریقین مقدمہ کی شکایات کا ازالہ بھی آئین و قانون کے مطابق ہو جائے، کسی طرح عقل تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ محض ہدف کے حصول کی خاطر ممکن ہے اتنی بڑی تعداد میں مقدمات کے فیصلے تو سنا دیے جائیں مگر عدالت عظمیٰ کی سطح پر اس حقیقت کا ادراک کیا جانا اور فیصلوں سے قبل اسے پیش نظر رکھا جانا بھی نہایت ضروری ہے کہ محض تیز رفتاری سے زیر التوا مقدمات کو نمٹانے سے انصاف کا معیار بری طرح متاثر ہونے کے شدید خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس اعلیٰ ترین سطح پر جس کے بعد اپیل کا کوئی بالاتر فورم باقی نہیں رہتا، سائلین کو حقیقی معنوں میں انصاف کی فراہمی کے لیے رفتار کے ساتھ ساتھ معیار کا برقرار رکھا جانا بھی ناگزیر ہے خصوصاً سزائے موت اور عمر قید کی سخت ترین سزائوں کے معاملہ میں گواہوں کے بیانات، دیگر شواہد اور قانونی نکات کی باریکیوں کا گہرائی میں جا کر جائزہ لیا جانا بھی معیاری انصاف کے تقاضوں میں شامل ہے اسی طرح ایسے سنگین سزائوں کے معاملات میں آئین میں بیان کیے گئے بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی سطح پر ان کی نگرانی کا خیال رکھا جانا بھی فیصلہ سنائے جانے سے قبل لازم ہے۔ عدالتی نظام میں شدت سے محسوس کیے جانے والے جمود کو توڑنے کے لیے عدالت عظمیٰ کا سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات سے متعلق 45 روز میں نمٹائے جانے کا ہدف اگرچہ عدالتوں کا بوجھ کم کرنے کے ضمن میں بہت اچھی اور قابل قدر پیش رفت محسوس ہوتی ہے تاہم فیصلوں کا معیار برقرار رکھنے، عدالتوں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے اور آئین و قانون کے تقاضوں کی تکمیل کی خاطر اس میں کسی انا کو آڑے نہیں آنا چاہیے کہ عدالت عظمیٰ کے محترم اور فاضل جج صاحبان اپنے 45 دن میں تیرہ ہزار مقدمات کے فیصلے سنانے کے ہدف پر نظر ثانی کریں اور اسے قابل عمل اور حقیقت پسندانہ بنانے کے لیے اس پر دوبارہ سنجیدگی سے غور کریں۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سزائے موت اور عمر قید عدالت عظمی مقدمات کی زیر التوا انصاف کے کے مطابق جانا بھی کے لیے کیا جا

پڑھیں:

اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی