عالیہ کامران نے نفیسہ شاہ کے پیش کردہ بل کی مخالفت کردی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
جمعیت علماءاسلام (جے یو آئی) کی خاتون رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے پیپلز پارٹی کی نفیسہ شاہ کے بل کی مخالفت کردی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ قانون اور انصاف کے اجلاس میں نفیسہ شاہ کی جانب سے پیش آرٹیکل25 میں ترمیم کرکے غیر مسلم کا لفظ شامل کرنے کا بل پھر موخر کردیا گیا۔
اس معاملے پر عالیہ کامران نے کہا کہ یہ بل کافی پرانا ہوچکا ہے اس پر کوئی حل نکالنا چاہیے، کمیٹی وزارت انسانی حقوق اور صوبوں کو خط لکھے، وزارت قانون اور انصاف اس بل پر کیا کر رہی ہیں؟
سیکریٹری وزارت قانون اور انصاف نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی لکھا، دوبارہ لکھ دیتے ہیں۔
وزیر مملکت نے کمیٹی کو بتایا کہ آرٹیکل25 میں واضح ہےتمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں، آرٹیکل کے مطابق ریاست عورتوں، بچوں کے تحفظ کے خصوصی اقدامات کرسکتی ہے۔
دوران اجلاس عالیہ کامران نے کہا کہ میں اس بل کی مخالفت کرتی ہوں، اگر یہ بل پاس ہوا تو اس کے مطابق آپ کا صدر اور وزیراعظم بھی غیر مسلم ہوسکتا ہے، وزارت انسانی حقوق کا جو بھی جواب آئے ہم اس بل کی مخالفت کریں گے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جب آئین واضح ہے تو اس میں کچھ اور ترمیم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: عالیہ کامران نے بل کی مخالفت نے کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔