وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے بتایا کہ چاروں ہسپتالوں کی کاررکردگی بہتر بنانے کیلئے انہیں نیم خود مختار بورڈ کے حوالے کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان حکومت نے صوبے کے چار بڑے اہسپتالوں کو نیم خود مختار بورڈ کے تحت چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جن کی کارکردگی کا جائزہ صوبے کے تمام ہسپتالوں کیلئے بورڈز بنائے جائیں گے۔ یہ فیصلہ بلوچستان ہیلتھ انسٹی ٹیوشنز ری فام ایکٹ کے تحت کیا گیا۔ محکمہ صحت کے نوٹی فیکشن کے مطابق بلوچستان کے چار بڑے ہسپتال سول ہسپتال کوئٹہ، بولان میڈیکل کمپلیکس، تربت ٹیچنگ ہسپتال اور لورالائی ٹیچنگ ہسپتال نیم خود مختار بورڈ کے تحت چلائے جائیں گے۔ صوبائی سیکرٹری صحت نیم خود مختار بورڈ کے چیئرمین ہوں گے۔ بلوچستان کے چار ہسپتالوں کیلئے نیم خود مختار بورڈ کی تشکیل کے حوالے سے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے بتایا کہ چاروں ہسپتالوں کی کاررکردگی بہتر بنانے کیلئے انہیں نیم خود مختار بورڈ کے حوالے کیا ہے۔ ایک سال تک ان ہسپتالوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد صوبے کے تمام ہسپتالوں کو بورڈ کے حوالے کریں گے۔ نیم خود مختار بورڈ کے حوالے کرنے سے پبلک سروسز میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نیم خود مختار بورڈ کے بورڈ کے حوالے ہسپتالوں کی

پڑھیں:

توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔

دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔

اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔

کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ