پشاور ہائیکورٹ کا موٹروے اور جی ٹی روڈ بندش پر اظہار برہمی، سڑکیں فوری کھولنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
پشاور ہائیکورٹ میں موٹر وے اور جی ٹی روڈ کی بندش کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کو فوری طور پر سڑکیں کھولنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فراح جمشید نے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے آئی جی پولیس سے استفسار کیا کہ اب تک سڑکیں بند کرنے والوں کے خلاف کتنے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ آئین ہر شہری کو آزادانہ نقل و حرکت کا حق دیتا ہے اور سڑکوں کی بندش سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پی ٹی آئی کارکنان نے انبار انٹرچینج پر موٹر وے جبکہ اٹک پل کے قریب جی ٹی روڈ پر دھرنا دے رکھا ہے، جس سے بین الصوبائی رابطے متاثر ہوئے ہیں اور عام شہریوں، مریضوں اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
عدالت نے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور آئی جی پولیس ذوالفقار کو طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ بتایا جائے سڑکیں کھولنے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔
آئی جی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ تین دن سے سڑکیں بند ہیں، پہلے 14 مقامات پر احتجاج تھا جو اب کم ہو کر 6 پوائنٹس تک رہ گیا ہے۔ انہوں نے دو دن کی مہلت طلب کی تاہم عدالت نے فوری اقدامات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ موٹر وے کسی صورت بند نہیں ہونی چاہیے۔
جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ صوبے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی خراب ہے، ایسے میں سڑکوں کی بندش عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورا پاکستان کھلا ہے اور خیبرپختونخوا بند ہے، یہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف اقدام ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ آج ہی سڑکیں کھولی جائیں اور کل رپورٹ پیش کی جائے۔ بعد ازاں سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔
دوسری جانب، مسلم لیگ (ق) خیبر پختونخوا نے بھی موٹر ویز اور دیگر سڑکوں کی بندش کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی۔ مرکزی ترجمان مسلم لیگ (ق) مصطفیٰ ملک کے مطابق مسلم لیگی رہنما بلال محمد زئی کی جانب سے محمد انتخاب خان چمکنی ایڈووکیٹ نے رٹ پٹیشن دائر کی۔
رٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ روڈ بندش کے باعث شہریوں، مسافروں اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور صوبائی حکومت کی سرپرستی میں سڑکیں بند ہیں۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے فوری نوٹس لے کر سڑکوں کی بندش ختم کرانے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔
مصطفیٰ ملک نے کہا کہ یہ کیسی حکومت ہے جو اپنے ہی عوام کے راستے بند کر کے بیٹھی ہے۔ ان کے مطابق انتخاب خان اور بلال محمد زئی نے عدالت کے سامنے عوام کا مقدمہ رکھا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ عدالت فوری حکم نامہ جاری کر کے عوام کو مشکلات سے نکالے گی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سڑکوں کی بندش آئی جی پولیس عدالت نے کے خلاف ہے اور کا حکم
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند