سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر شہادت علی اعوان کی صدارت میں جاری رہا، اجلاس میں میٹرو بس سے متعلق بل پیش کیا گیا۔
سی ڈی اے حکام نے کہا کہ میٹرو کے معاملے پر ونگ بنانے کی سفارش کی گئی تھی اور وزارت قانون کی جانب سے رہنمائی درکار ہے، سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ الگ ادارہ نہیں بلکہ ونگ بنایا جائے گا، وزارت قانون حکام نے کہا کہ اگر ادارہ اس کو لے کر چلے تو کوئی اعتراض نہیں۔
سینیٹر سرمد علی نے بل میں کی گئی تبدیلیوں سے آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا، وزارت قانون حکام نے کہا کہ ترمیم کے حوالے سے کچھ شیئر نہیں کیا گیا، وزارت داخلہ حکام نے کہا کہ بل شیئر کیا جائے تاکہ رائے دی جا سکے۔
وزارت قانون حکام کے مطابق اس پر کام کیلئے وقت درکار ہوگا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پوچھے گئے سوالات کے اصل جواب نہیں دیے جا رہے، سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ موور کا رائٹ ہوتا ہے اور بات کرنے والوں کو خاموش کرایا جاتا ہے، چیئرمین کمیٹی نے بل کو اگلی میٹنگ میں دیکھنے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس میں اسلام آباد کے ماسٹر پلان پر چیئرمین سی ڈی اے کو بریفنگ دینے کی ہدایت کی گئی، سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ چیئرمین سی ڈی اے کمیٹی میں پیش نہیں ہوتے اور انہیں طلب کیا جائے، سینیٹر طلحہ محمود نے ڈی پی او اپر چترال، آئی جی کے پی اور دیگر افسران کو طلب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے مقدمات، شیڈول فور، پولیس گاڑیوں کے ناجائز استعمال اور 38 کروڑ روپے کے معاملے کی نشاندہی کی۔
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ گلگت بلتستان کو تقسیم کیا جا رہا ہے، اجلاس میں اغواء کے واقعات، افغانستان بارڈر کی صورتحال، مغویوں پر تشدد اور کابل سے بازیابی کا ذکر کیا گیا۔
سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ اس حوالے سے رپورٹ منگوائی جائے گی جبکہ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ طاقت کے زور پر غیر قانونی کام ہو رہے ہیں اور بروقت اقدام نہ کیا جاتا تو ملک بھر میں طوفان آ جاتا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سینیٹر طلحہ محمود نے حکام نے کہا کہ
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔