Al Qamar Online:
2026-06-02@20:58:35 GMT

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر شہادت علی اعوان کی صدارت میں جاری رہا، اجلاس میں میٹرو بس سے متعلق بل پیش کیا گیا۔

سی ڈی اے حکام نے کہا کہ میٹرو کے معاملے پر ونگ بنانے کی سفارش کی گئی تھی اور وزارت قانون کی جانب سے رہنمائی درکار ہے، سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ الگ ادارہ نہیں بلکہ ونگ بنایا جائے گا، وزارت قانون حکام نے کہا کہ اگر ادارہ اس کو لے کر چلے تو کوئی اعتراض نہیں۔

سینیٹر سرمد علی نے بل میں کی گئی تبدیلیوں سے آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا، وزارت قانون حکام نے کہا کہ ترمیم کے حوالے سے کچھ شیئر نہیں کیا گیا، وزارت داخلہ حکام نے کہا کہ بل شیئر کیا جائے تاکہ رائے دی جا سکے۔

وزارت قانون حکام کے مطابق اس پر کام کیلئے وقت درکار ہوگا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پوچھے گئے سوالات کے اصل جواب نہیں دیے جا رہے، سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ موور کا رائٹ ہوتا ہے اور بات کرنے والوں کو خاموش کرایا جاتا ہے، چیئرمین کمیٹی نے بل کو اگلی میٹنگ میں دیکھنے کا فیصلہ کیا۔

اجلاس میں اسلام آباد کے ماسٹر پلان پر چیئرمین سی ڈی اے کو بریفنگ دینے کی ہدایت کی گئی، سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ چیئرمین سی ڈی اے کمیٹی میں پیش نہیں ہوتے اور انہیں طلب کیا جائے، سینیٹر طلحہ محمود نے ڈی پی او اپر چترال، آئی جی کے پی اور دیگر افسران کو طلب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے مقدمات، شیڈول فور، پولیس گاڑیوں کے ناجائز استعمال اور 38 کروڑ روپے کے معاملے کی نشاندہی کی۔

سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ گلگت بلتستان کو تقسیم کیا جا رہا ہے، اجلاس میں اغواء کے واقعات، افغانستان بارڈر کی صورتحال، مغویوں پر تشدد اور کابل سے بازیابی کا ذکر کیا گیا۔

سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ اس حوالے سے رپورٹ منگوائی جائے گی جبکہ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ طاقت کے زور پر غیر قانونی کام ہو رہے ہیں اور بروقت اقدام نہ کیا جاتا تو ملک بھر میں طوفان آ جاتا۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سینیٹر طلحہ محمود نے حکام نے کہا کہ

پڑھیں:

عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔

اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔

ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔

مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات

فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی