چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت رمضان المبارک میں امن و امان کی صورتحال پر اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت رمضان المبارک میں امن و امان کی صورتحال پر اجلاس WhatsAppFacebookTwitter 0 18 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت بدھ کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رمضان المبارک میں امن و امان کی صورتحال اور سیکورٹی کے بہترین انتظامات کو یقینی بنانے سے متعلق سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں انسپکٹر جنرل (آئی جی)اسلام آباد پولیس سید علی ناصر رضوی، ممبر انجینئرنگ سید نفاست رضا، ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) اسلام آباد عرفان نواز میمن سمیت سی ڈی اے و ضلعی انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس کے سنئیر افسران نے شرکت کی۔
چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے وژن کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو محفوظ ترین شہر بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ اجلاس میں آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے رمضان المبارک میں شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور فول پروف انتظامات کیلئے کئے گئے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک میں تمام مساجد اور امام بارگاہوں میں آنے والے نمازیوں کیلئے بہترین سیکورٹی اقدامات کے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام مساجد اور امام بارگاہوں کی سیکورٹی اور نگرانی کیلئے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جارہا ہے۔ اسی طرح رمضان بازاروں، مارکیٹس اور کمرشل مراکز میں بھی شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ رمضان المبارک میں اسلام آباد شہر بھر میں پولیس گشت میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت اسلام آباد کے شہریوں کی جان و مال اور عزت کا تحفظ ہماری اولین ترجیح اور اسکو یقینی بنانے کیلئے اسلام آباد پولیس دن رات مصروف عمل ہے۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو محفوظ ترین شہر بنانے کیلئے سیف سٹی کو عصر حاضر کے تقاضوں اور جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دارالحکومت اسلام آباد میں سیف سٹی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شہر کی تمام مساجد، امام بارگاہوں، مرکزی شاہراہوں، مراکز اور سیکٹرز کی نگرانی کا میکنزم بنایا گیا ہے۔چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے کہا کہ رمضان المبارک میں تمام مساجد، امام بارگاہوں، مارکیٹس، کمرشل مراکز اور پارکس کے داخلی و خارجی راستوں کی خصوصی نگرانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مساجد، امام بارگاہوں، مارکیٹس، کمرشل مراکز اور پارکس کے داخلی و خارجی راستوں پر جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کو بھی یقینی بنایا جائے۔چیئرمین سی ڈی اے نے ہدایت کی کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیکورٹی کو مزید فول پروف بنانے کیلئے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مثر اور مربوط رابطوں کو بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ کاوشوں کی بدولت اسلام آباد میں مجموعی امن و امان اور سیکورٹی کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ دارالحکومت اسلام آباد کے شہریوں کو پرامن اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید ہدایت کہ نہ صرف رمضان المبارک بلکہ عام دنوں میں بھی شہریوں کو بہترین سیکورٹی فراہم کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآسٹریلوں ہائی کمشنر ٹموتھی کین کی پاکستانیوں کو رمضان المبارک کی مبارکباد آسٹریلوں ہائی کمشنر ٹموتھی کین کی پاکستانیوں کو رمضان المبارک کی مبارکباد وزیر اعظم شہباز شریف کا ہاکی ٹیم مینجمنٹ کو فارغ کرنے کافیصلہ بلوچستان میں سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائیاں، 14دہشت گرد ہلاک، 3اہلکار زخمی اپوزیشن اتحاد کا پارلیمنٹ ہاوس میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان نمیبیا کو شکست دے کر پاکستان ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر 8مرحلے میں پہنچ گیا سعد رفیق کو ہارٹ اٹیک ، پی آئی سی منتقل، شریان میں سٹنٹ ڈال دیا گیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میں امن و امان کی صورتحال رمضان المبارک میں
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔