شارجہ سے اسلام آباد 4.48 کلو گرام کوکین اسمگل کرنے والے خاتون زیر حراست
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
پاکستان قطر مشترکہ آپریشن میں اسلام آباد ایئرپورٹ پر 4.48 کلوگرام کوکین اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔
اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے قطری حکام کے اشتراک سے کارروائی کرتے ہوئے ایک پاکستانی خاتون مسافر کو حراست میں لیا، جو شارجہ سے دوحہ کے راستے اسلام آباد پہنچ رہی تھی۔
خاتون کے زیرِ استعمال ٹرالی بیگ کی مکمل تلاشی کے دوران 4.
دورانِ تفتیش ملزمہ نے انکشاف کیا کہ اس کا ہینڈلر، جو مطلوبہ وصول کنندہ سے بھی منسلک تھا، ایئرپورٹ پر ہی موجود ہے۔ اطلاع ملنے پر اے این ایف نے فوری فالو اَپ کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو اس کی گاڑی سمیت حراست میں لے لیا۔
حکام کے مطابق یہ مشترکہ کارروائی پاکستان اور قطر کے درمیان مؤثر انٹیلی جنس شیئرنگ اور عملی تعاون کا مظہر ہے، جس کے ذریعے منشیات اسمگلنگ کے خلاف کوششیں مزید مضبوط ہو رہی ہیں۔ مزید تفتیش جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔
عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان